1 بسم اللہ الرحمن ا لرحیم ِ ایّام شہادت کی مناسبتسے خصوصی تحریر دا کٹر یذرحافی کیا خوارجکا ظہور خوا ہ مخوا ہ ہو گیا تھا؟ کیا و ہ قوتیں جو خوارجکی تشکیل میں ملوتتھیں اورجنہوں نے اں سے مسلسل سیا سی اور نظر ی ا تی فائدہاٹھا ی ا، ی و ہامام عل کے قتل سے لا عِلم تھیں ؟ کیا ی قتلِ امامعل کا الزام خوارجپر عائد کر یااورا س کے سیاسی محرک کو بھول جایا د ا نشمند ی ہے ؟ کیا یہ جاننا ضر وری ہیں ہ خوارجکا نظر یہ اوراںکا ظہورکس سیا سی ویار یخی پس منظر میں ہوا ؟ یہ سوالات اس یاتکی طرف اسارہ کرتے ہیں ہ ہمیں صرف سطحی تجز یے پر اکتفا ہیں کریا چاہیے بلکہ گہرا ئی سے ا س تمام معاملے کی تحلیل کرنی چاہیے ۔ یہ کہنا ہ خوارجکو صرف طالباں ی ا داعش کی طرج بدیام کیا گیا یہ ا ی ک معقول تجز یے کا نتیجہ ہیں ۔ ہمیں اس یاتکا بھی بغورجائزہ لینا ہوگا ہ ماضی میں اںگروپوں کے ظہورکے اسباتکیا تھے اوراںکے سیا سی و مذہبی بیا ئ ی ے کو کس طرج مختلف حالاتمیں "بیا نیہ سار ی " (narrative building) کے لئے عوا م کے سامنے پیش کیا گیا ۔ خوارجکے سیاسی تناظر میں جتہم نبی اکرم ﷺ کے غزواتکا جائزہ لیتے ہیں ، تو یہ یاتواضح ہو جا تی ہے ہ ؐ عہدِ نبوی میں کفر کے نمائندہ قائد ین میں ستسے نما ی ا ں شخصیت ا بو سفیا ں کی تھی ۔ ا س میں کوئی دورائے ہیں ہیں ہ فتح ہ ک کے رور ا بو سفیا ں کے لیے ِ سوائے بیع رسول ﷺ کے کوئی دوسرا راستہ ہیں بچا تھا۔ اس یات کو "سیا سی ضرور ی ات " (political necessities) کے دائزے میں سمجھا جا سکتا ہے، جہاں قریش کے ایک طا قتو ر مگر مغلوت سردار نے اسلا م کے للاف انی لذوجہد کی بقا کے لیے ؐ یانی اسلام کے ساتھ ایک "یار یخی مفاہمت " (historical compromise) کی ۔ ا گے چل کر یاریخ 2 اسلام میں یہ مفاہمت مسلمانوں کے درمیاں ایک سیا سی تبدیلی کا تسلسل یائتہوئی۔ معتبر منابع کے طابق خلیفہ اوّل کے دور میںابوسفیاں ی نےامام عل کو بغاوت پر اُکسانے کی کوش کی ۔اس سے یہ واضح ہویاہے ہ قریش کے مغلوتسُذہ سردارکی طرف سے اقتدار کے حصول کے لیے سارس ا سی دو رمیں شروع ہو چکی تھی جسے "سیا سی سارس " (political conspiracy) کہا جایاہے۔ ا سی طرج، خلیفہ دو م کے قتل کی وارداتمیں ا بو لولو فیر ور کا کرداربھی اہم ہے۔ ا بو لولو یامی شخص تو مغیر ہ بن شعبہ کا علام تھا اور مغیرہ بن شعبہ خودا لِ ابوسفیاںکا ہم نوالہ وہم پیالہ تھا۔ یہ شخص درا صل ا ی ک "پر اسی " (proxy) تھا جس کا استعمال خلیفہ دوّم کے للاف سیا سی مفاداتکے حصول کیلئے کیا گیا ۔ اس کی کہانی میں ہمیں واضح طورپر "پولب ی کل گیمز " (political games) کی جھلک ملتی ہے ۔ بظاہر وہ اپنے داتی مفاداتکےتحت خلیفہ دوم پر حملہ کریاہے لیکن ا سکے پیچھے درا صل مغیر ہ بن شعبہ او ربنو امیہ کے مفاداتکارفرما تھے۔ صاحباں ِ دانش بخوبی جانتے ہیں ہ اس وقتتو خلیفہ دوّم نے عجمی حضراتکے مدینے میں داخلے پر یابندی لگا رکھی تھی۔ یابندی کے اس دورمیں ا بولولو کو مدینے میں رہنے کی خصوصی اجارت مغیر ہ بن شعبہ کی سفارسپر ہی ملی تھی۔ اس قتل کو "پر ی ب ی کل اسٹرٹیجی " (practical strategy) کے طورپر د یکھا جا سکتا ہے، جس کے در یعے اس وقت کی رائج للافت میں تبد یلی لانے کی کوش کی گئی ۔ ا سی طرج، خلیفہ سوم کے للاف ہونے والی عوا می بغاوتکو ہم "سوس ی ل دسکانٹینٹ " (social discontent) کے طورپر د یکھ سکیےہیں ، جو ہ ا ی ک وسیع ترسیا سی عمل کا حصہ تھی ۔اس بغاوتمیں مرواںبن حکم اوربنو امیہ کے سیا سی مفاداتنظرا تے ہیں ، جو اسلامی للافت کو اپنے قابو میں لانے کے خوا ہاں تھے۔ ا س سلسلے میں ی ا مام عل کے اقتدا رکے ا غار کو اُس وقتکے "سیا سی جغرافیہ " (political geography) کے تناظر میں د یکھا جا سکتا ہے، جہاں مختلف سیاسی طاقتوں کے مفاداتا پس میں متصادم تھے۔ یہ تصادم واضح کریا ہے ہ للافت کا ملوکیت میں تبد یل ہوی ا ا ی ک " یاہدف حکمت عملی " (strategic agenda) تھا اوراس تبد یلی کے پیچھے کئی سا لو ں کی "منظم سیا سی تدابیر " (organized political maneuvering) کارفرما تھیں ۔ جت ی امام عل کو شہید کیا گیا تو اںکے قتل میں جو لوگ سامل تھے، وہ صرف خوارج ی ا ابن ملجم جیسے افرادیک محدودہیں تھے۔ یہ ا ی ک "سیا سی سارس " (political conspiracy) تھی جس میں ماضی کی متصا دم سیاسی طاقتوں کے مشترہمفاداتکا حصو ل 3 سا مل تھا۔ اں ست کا مشترہ مقصد ی عل ابن ابیطالت کو راستےسے ہٹایا تھا۔ منصوبہ سار اپنے نقشے کے طابق جانتے تھے ہ اس قتل کے بعد اسلامی لکومت درجتپر سی پکے ہوئے پھل کی مانند کس کی گودمیں گرے گی۔ ا س کے بعد ہم اس یاتکو "سیا سی تجز یہ " (political analysis) کے در یعے سمجھ سکیے ہیں ہ خوارج ی ا ابن ملجم نے اسلامی لکومتکے درجت پر فقط کلہاراللایا لیکناس کا پھل نہانہوں نے چکھا اورنہ ہی نقشے کےطاب ق اُہیں اس پھل میں سے کچھ چکھایا جا یاتھا ۔پس للافت کو ملوکیت میں تبد یل کری ا کی ا ی ک گہری حکمت عملی کا نتیجہ تھا۔ یہ یاتسی سے دھکی چھپی ہیں ہ اما م ی عل کے قتل کا نقشہ ابن ملجم اورخوارج کا تیارکرد ہ ہیں تھا بلکہ خوارجتو خودسی اورکے نقشے کے طابق وجودمیںا ئے تھے۔ خوارجنے تو اپنے و جودمیں لائے جانے کے ہدف کو پوراکیا او ریوں ی شہادت ِ امام عل کے بعداصلی قایل ، اسلامی اقتدا رپر قابض ہو گئے ۔ اس یات کو "سیا سی تجز یہ " (political analysis) اور "یار یخی حقیقت " (historical truth) کے تناظر میں سمجھنا ضرور ی ہے۔ اںاصل قاتلوں کو بے نقاتکرنے کی اہمیت اس لیے ہے ہ اس کے در یعے ی ہم نہ صرف ا مام عل کے قتل کے محرکاتکو بہتر طورپر سمجھ سکیے ہیں بلکہ ا س سے جڑے و سیع تر سیا سی مفاداتاور اثراتکا ا جبھی مشاہدہ کر سکیے ہیں ۔ ا مام ی عل کے قتل کے بعد جو قوتیں ا قتدارمیں ا ئیں ، اںکی سیا ست اورحکمت عملی یہ بتاتی ہے ہ اں کی تدا بیر نے عام افرادکیلئے ا س قتل کو سمجھنا مر ی ذ سنگین او رمشکل بناد ی ا ۔ ا سسلسلے کیایک کزی یہ ہے ہ ماضی کے خوا رج ہوںیاا جکےخوارج جو ہہمیشہ ایسی کاروائیوں کا ا لزام اپنے سر لیتے ہیں اور یہ دراصل طاقتورگروہو ں کے ا لہ کارہوتے ہیں ۔ کریلا کے مید اں میں ی امام حسین کے جطاتکو ہم "فلسفہ ا راد ی " (philosophy of freedom) کے طورپر د یکھ سکیے ہیں ، ی جہاں ا مام حسین نے ا بو سفیا ں کے پیر و کارو ں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: "ا گر تم د ین سے بے بہرہ ہو ا و رقیا مت سے ہیں درتے تو کم ارکم انی دنیا میں ا رادرہو۔" اس جملے میں ی ا مام حسین نے نہ صرف مذہبی ا راد ی کی یاتکی ، بلکہ انیا کے ا س بنیا د ی اصول کو بھی ا جاگر کیا جو سیا سی ا قتدار کے غلط ا ستعما ل کو نج ی کریا ہے۔ امام حسین نے ا ی ک "سیا سی تجز یہ " (political critique) پیش کیا ، جو یہ طاہرکریاہے ہ کس طرج کچھ سیا سی حکام نے اسلامی تعلیما ت کو انی طاقتکے لیے مسخ کر دیاہے ۔ حضرت ر ی ینب کا جطاتبھی کریلا کے "سیا سی بیا ئ ی ے " (political discourse) کا حصہ تھا، جس میں انہوں نے ئ ز ی ذ کے دریار میں ابو سفیا ں اوراس کے خانداںکے منفی سیا سی کردارکو بے نقاتکیا ۔ حضرتر ی ینب نے ئ ز ی ذ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: "اے 4 ہمارے ا رادکردہ علاموں کی اولاد! تم نے ا نی مستوراتکو پردے میں بٹھا رکھا ہے، جبکہ ر سول اللہ کی بیٹیو ں کو بے پرد ہ د ربدر پھرار ہے ہو۔" یہ جملے ا ی ک "سیا سی تفصیل " (political exposition) کے متقاضی ہیں ، جو نہ صرف فتح ہ ّک کے رور ا بو سفیا ں کی بیع کی حقیقت کو ا جاگر کر تے ہیں بلکہ ا س ا مر کو بھی یائتکر تے ہیں ہ ا س دو رمیں مذ ہتاورسیا ست کو کس طرج گمرا ہ کن مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔ ا ں تمام حقائق کو غیرجانبدا رہو کر جاننا ضرور ی ہے یاہ ہم یہ سمجھ سکیں ہ اںحقائق کو سی او رنے ہیں بلکہ ماضی کی مقتدر یام نہاداسلامی قوّتوں نے ہی نسل د رنسل اقتدارکے مرکزپر انی گرفت مضبوط رکھنے کیلئے ایک منظم حکمت عملی کے سا تھ رعایا سے چھپایا ہے۔ یہ ا سی صدیوں پر محیط میظّ م حکمت عملی کا نتیجہ ہے ہ ا جپورے جہاں ِ اسلام میں مسلما نوں کے یاس کوئی ایک ایسی جامع الشرا ئط شخصیت ہیں ہے ہ جس پر ساری د نیا کے مسلماں بطور ِ ملت جمع ہو نے کیلئے سو چیں ۔ گویا ۴۱ سو سا ل پہلے ہی ی حضرتامام عل کو شہید کر کے قیامت یک کے مسلمانوں کو منتشر کرنےکا منصوبہ بنایاگیا تھا ۔ کیا ہم بھول گئےہیں ہ خلیفہسوّم کے قتل کے وقتبھی ایسا ہی ایبیار وجودمیں ا یا تھا۔ اُس رمانے میں لوگوں نے ی اس للا کو حضرتامام عل کی بیعکر کے ئُزکیا تھا۔ عقلِ سلیم کا یہ یصلہ ہے ہ چو دہ سو سال پہلے کی طرج ا جبھی ِ اس للا کو صرف ا س موجود ہ رمانے کا ی عل ہی ئُزکر سکتا ہے۔ چود ہ سو سا ل کے بعد بھی ۴۱ رمضاںالمبارک کی ستمسلمانوں کی عقل پر دستک دیتی ہے ہ مسلمانو ! اس رما نے کا للا ئُز کرنے ی کیلئے ا س دورکا عل کوںہے ؐ ؟ کیا تم الیبیب یہ بتا کر ہیں گئے ہ تھے ہ میرے بعد میر اخلیفہ کوںہے ؟ میرے بعد کتنے عل ی ہونگے اورا خری عل کی نیانیاں کیا ہونگی؟ مطمئن ر ہیں ہ جتبھی ہم ماضی کی سیاسی وابستگیوں سے ہتکر ا س سوا ل کا جوا ت ی دھویذیں گے تو ہمیں اپنے رمانے کے عل کا سُ راعمل جائے گا۔ ی اپنے رمانے کے عل کو یلاسکیجئے لیکن یہ جاںلیجئے ہ عل کے سر کے رخم اورعل کے دل کے دُکھ دونوں کا دردئزائزہے ۔ ابنِ ملجم کے خنجر کے لگائے ہوئے رخم پر رویااورعل کےدل کے رخموں کا ی احساس نہ کریایہ عل کو نہ پہچاننے کی نیانی ہے۔ اس لئے ہ طاہری رخم توغیروں کو بھی نظر ا تے ہیں لیکن دل کے رخموں کو فقط جاننے و ا لے ہی جانتے ہیں۔ کیا ہم میں سے ہے ی کوئی جو عل کے دل کے د کھوں کو جانتا ہے؟ عل ی ؑ کے دِل کا ایک گہرا د کھ " ی عل کے چاہنے وا لوں کا ی عل کے دشمنو ں کی سیاستکو نہ سمجھنا ہے " ۔ و ا ئس ا ف نیشن