* بک جنگل نیور * * قاضی کبرہ : رائٹر * __ تھی۔ تیز دھوپ بجے۔ 8 صبح لاہور۔ یونیورسٹی، پنجاب نوٹس لکھا سے مارکر لال : `*" انتظامیہ حادثہ۔ کا 1987 : وجہ کینسل۔ – 2026 اگست 14 – فاریسٹ پور شاداں : ٹرپ فیلڈ – ڈیپارٹمنٹ ماحولیات "*` حمزہ BS " منع " جہاں جاتا لازمی جگہ اس ہر وہ تھا۔ مشہور پر یوٹیوب " فائلیں کینسل " چینل کا اس بیگ۔ کیمرہ پر کندھے ایئر۔ فائنل سائنس، میڈیا ہوتا۔ لکھا بنا " سائن ڈینجر " یا خدیجہ BS شریک۔ میں ضد پاگل ہر کی حمزہ مگر ڈرپوک، تھوڑی عقلمند، ڈائری۔ ہمیشہ میں بیگ ہاسٹلر۔ ایئر۔ سیکنڈ لٹریچر، انگلش دادی میری کرے۔ معاف اللہ پور؟ شاداں حمزہ، " پکڑا۔ بازو کا حمزہ کر گھبرا کر پڑھ نوٹس نے خدیجہ PU وہ تھیں۔ پڑھتی میں دہائی کی 80 میں فوج، پولیس، آیا۔ نہیں کوئی واپس پروفیسر۔ 2 اسٹوڈنٹس، 38 تھی۔ گئی پور شاداں 13 نمبر بس کی یونیورسٹی کو 1987 اگست 14 ... تھیں کہتی کو جنگل والے پیچھے کے کیمپس سے تب ملا۔ نہیں تک ملبہ کا بس چکے۔ ڈھونڈ سب رینجرز 'Never Jungle' کبھی وہ گیا، جو ... مطلب ہیں۔ کہتے آیا۔ نہیں واپس " گیا۔ مل پراجیکٹ ایئر فائنل ہمارا ! سونا ہے سونا یہ خدیجہ، " تھیں۔ رہی چمک آنکھیں کھینچی۔ تصویر کی نوٹس کر نکال موبائل نے حمزہ `"Never Jungle"`: `"The Cancelled Trip"` وعدہ۔ ٹرپ۔ کا گھنٹے 8 واپس۔ پہلے سے مغرب شام گے، نکلیں بعد کے فجر صبح گے۔ جائیں پر بائیک اپنی ہم " تھیں کہتی دادی ہو۔ گئے ہو پاگل تم حمزہ، " ہلایا۔ میں ناں سر نے خدیجہ ... Never Jungle ہے۔ منحوس بھی لینا نام کا " رکھیں شرطیں 3 نے خدیجہ آخر گئی۔ مان وہ بلاآخر رہی ہوتی بحث گھنٹہ آدھا کی۔ ضد نے حمزہ : "1. گے۔ جائیں کے کر وضو کر، پڑھ فجر 2. گے۔ چھوڑیں نہیں اکیلا بھی لیے کے سیکنڈ ایک کو دوسرے ایک گے، رہیں ساتھ دونوں 3. گی۔ کروں نہیں بات کبھی سے تم میں تو ہوئے لیٹ بھی منٹ 1 اگر واپس۔ ہاسٹل پہلے سے اذان کی مغرب " وعدہ۔ پکا خدیجہ۔ ڈن " بڑھایا۔ ہاتھ کر مسکرا نے حمزہ " --- مدھم۔ لائٹ ۔ 404 کمرہ ہاسٹل، گرلز بجے۔ 11 رات سے وجہ کی مٹی دھول گرا۔ کیس سوٹ پرانا سے اوپر کے الماری اچانک بینک۔ پاور مجید، قرآن بسکٹز، پانی، : تھی رہی کر پیک سامان خدیجہ گئیں۔ آ چھینکیں پر کالر کی، رنگ نیلے نکلی۔ وردی یونیورسٹی بوسیدہ سے اندر ہوا۔ ٹوٹا تھا، آلود زنگ تالا کا کیس سوٹ "PU 1987" ڈائری ایک نیچے مونوگرام۔ کا کارڈ۔ ڈی آئی لپٹا میں پلاسٹک اور سیم۔ ٹو سیم وہی آنکھیں، وہی جیسی۔ اس بالکل ... لڑکی میں تصویر اٹھایا۔ کارڈ سے ہاتھوں کانپتے نے خدیجہ ` خدیجہ * : نام *` `13* : نمبر رول *` ` لٹریچر انگلش * : ڈیپارٹمنٹ *` `1987-08-14* : اجراء تاریخ *` `1988-08-13* : میعاد تاریخ *` گیا۔ رک سانس کا خدیجہ ہوں ہوئی پیدا میں 2004 میں مگر ہوں۔ میں یہ ... یہ !" لکھی سے سیاہی انٹری آخری ہوا۔ جلا آدھا صفحہ آخری زرد، صفحے پہلے کھولی۔ ڈائری : "14 پل۔ کا پور شاداں – 11:59 رات – 1987 اگست کے۔ کر ایک ایک ... ہو رہا پکار کر لے نام ہمارا کوئی جیسے ... آئی آواز سے جنگل پھر ختم۔ فیول کہا نے ڈرائیور گیا۔ ہو بند انجن کا بس کہا ہوئے کانپتے نے انور پروفیسر 'Never Jungle ۔ ' گا آئے نہیں واپس کبھی اور ... گا جائے اتر سے بس وہ گا، سنے نام اپنا جو ہے۔ گیا جاگ صرف ... آیا نہیں بیٹا مگر ... گا کرے آزاد ہمیں اور ... گا آئے بیٹا کا نسل کی اس کہ ... تھا کیا وعدہ سے پروفیسر نے یوسف دادا کے حمزہ ..." ہوا۔ جلا صفحہ ختم۔ وہیں سیاہی میرا میں کیس سوٹ اس پھر نہیں۔ لیے میرے لیے۔ تمہارے ... تھا کیا لیے کے بیٹے وعدہ نے دادا حمزہ، " ملائی۔ کال کو حمزہ کے کر بند ڈائری نے خدیجہ ہے؟ کیوں شکل میری نام، " نمبر انجان ٹن۔ نوٹیفیکیشن پر موبائل کے خدیجہ ہی رکھتے فون : `1987` میسج : `Hamza, don't let Khadija get off the bike. The jungle wants the grandson, not the girl. If she gets down, the promise breaks.` تھا۔ رہا چمک میسج وہی پر اسکرین مگر گئی، ہو کریک اسکرین گرا موبائل سے ہاتھ مارے کے ڈر کا خدیجہ رکھا۔ میں بیگ قرآن نے خدیجہ پڑھی۔ نماز نے دونوں بعد۔ کے اذان کی فجر دن اگلے GPS لگایا : " ۔ " کلومیٹر 67 – فاریسٹ پور شاداں بعد کلومیٹر 40 کمزور۔ سگنل ہی نکلتے سے شہر GPS آیا لکھا پر : `No Signal Zone` ۔ لگی۔ گھومنے سوئی کی کمپاس 2 ہوا چادریں تھیں، پڑی چارپائیاں میں صحن تھے۔ رہے لٹک دروازے ہوئی، گری چھتیں گھر، کے مٹی ویران۔ مکمل گاؤں پہنچے۔ پور شاداں بعد گھنٹے دائرہ۔ سرخ پر اگست 14 ۔ *1987 اگست * : کیلنڈر پر دیوار تھیں۔ رہی اڑ سے سائیڈ غائب۔ ٹائر ٹوٹے، شیشے آلود، زنگ ڈھانچہ۔ کا بس کی یونیورسٹی میں بیچ کے پل ندی۔ خشک نیچے ہوا، ٹوٹا آدھا پل۔ کا لوہے میں آخر کے گاؤں لکھا سے پینٹ سفید پر : `FIELD TRIP 1987 – BUS` `NO 13` نکالا۔ کیمرہ نے حمزہ "Day 1... اوکے۔ آؤگی میں فریم تم خدیجہ، ... آن ریکارڈنگ ... بس پرانی سال 38 ... پور شاداں " بو۔ کی کاغذ ہوئے سڑے میں ہوا باکس۔ لنچ کتابیں، بیگ، پرانے پر فرش ہوئی، پھٹی سیٹیں جھانکا۔ اندر کے بس نے خدیجہ ویسی۔ بالکل تھی۔ ملی میں کیس سوٹ رات جو تھی پڑی ڈائری وہی اندر تو کھولا بیگ ایک تھے۔ رہے سرسرا صفحے مگر تھی نہیں ہوا لگے۔ پلٹنے بخود خود صفحے اٹھائی۔ ڈائری نے خدیجہ ہو پرانا ریکارڈر ٹیپ جیسے آواز، کی انور پروفیسر پھر ... کڑکڑاہٹ سے اسپیکر آلود زنگ کے بس اچانک : " ہے انتظار کا حمزہ اور ... خدیجہ ... مریم ... سعد ... لگاؤ حاضری اپنی ... خاموشی اسٹوڈنٹس، ..." گئے۔ ہو کھڑے رونگٹے کے دونوں ہی سنتے نام کا حمزہ کیسے؟ ریکارڈنگ یہ ! ہوں ہوا پیدا میں 2003 میں نام؟ میرا " دیا۔ کر بند کیمرہ نے حمزہ " میں کان دھیمی، بہت ... آئی سرگوشی ساتھ کے ہوا سرسرائے۔ درخت کے چیڑ آیا۔ جھکڑ کا ہوا ٹھنڈی اچانک سے جنگل : " کرو پورا وعدہ کا دادا ... ہے خالی 1 نمبر سیٹ تمہاری ... آؤ میں بس ... حمزہ ..." ہیں۔ چلتے واپس چلو ہے۔ فیلڈ انرجی ہے۔ وہم یہ " پکڑا۔ سے سختی ہاتھ کا خدیجہ نے حمزہ " تھا۔ رہا آ نہیں نظر کچھ آگے قدم 2 دھند۔ گاڑھی سفید، گئی۔ چھا دھند پیچھے ... مڑے سے پل وہ ہی جیسے مگر پلیٹ نمبر گڑگڑاہٹ۔ کی انجن آن، ہیڈلائٹ ہوئی۔ چمکتی نئی، بالکل ہوئی۔ نمودار بس ایک کر چیر دھند : `13` تھا۔ رہا گھوم دائیں بائیں خود سٹیرنگ خالی۔ سیٹ کی ڈرائیور لکھا نے انگلی کسی اور ... جمی دھند پر شیشے والے سامنے کے بس : `WELCOME HAMZA – YOUR SEAT NO 1 – GRANDSON OF THE PROMISE – FINAL CALL` آواز۔ کی لینے سانس کے لوگوں 38 ساتھ کے ہوا نکلی۔ ہوا ٹھنڈی جیسی برف سے اندر کھلا۔ ہوا چرچراتا دروازہ کا بس ہوئے۔ جھلسے بال ہوا، جلا چہرہ آدھا چشمہ، موٹا کوٹ، لیب سفید ہوا۔ نمودار سایہ کا انور پروفیسر والے 1987 میں کھڑکی کی بس ٹک ... ٹک ... ٹک ماری۔ انگلی پر شیشے نے اس ... " پر 11:59 رات کی 1987 اگست 14 ... تھا کیا وعدہ سے مجھ نے دادا تمہارے ... حمزہ ... گا جائے لے پار سے پل کے پور شاداں ہمیں کے کر اسٹارٹ بس اور ... گا آئے بیٹا کا نسل کی اس کہ ... 38 بیٹھو پر سیٹ کی ڈرائیور ... کرو پورا وعدہ ... حمزہ گئے ہو دن 12 مہینے، 4 سال، ..." گئے ہو فوت میں 2015 تو وہ کیوں؟ مگر تھا؟ کیا وعدہ نے دادا میرے " تھی۔ رہی کانپ آواز لیا۔ پیچھے قدم نے حمزہ !" ہنسا۔ سایہ کا پروفیسر " کرنا۔ ریکارڈ آواز کی روح بعد کے موت : تھا مقصد تھا۔ کیا تجربہ کا ' فریکوئنسی کی روح ' نے میں 1987 کیونکہ جیے۔ نہ مرے، نہ گئے۔ ہو قید میں فریکوئنسی ایک سمیت بس سب ہم گئی۔ پھٹ مشین گیا۔ ہو فیل تجربہ کیا وعدہ سے مجھ نے انہوں تھے۔ کھڑے پیچھے کے بس وقت اس دادا تمہارے : ' گے جاؤ ہو آزاد سب تم اور گی ٹوٹے لعنت ہی تب گا۔ کرے اسٹارٹ بس وہ گا۔ آئے بیٹا کا نسل میری انور، '..." بند۔ راستہ کا واپسی جنگل۔ گھنا صرف تھی۔ چکی ہو ختم سڑک پیچھے کے پل کہ دیکھا نے خدیجہ مضبوط مگر تھی رہی کانپ آواز دیا۔ میں ہاتھ کے حمزہ کر نکال مجید قرآن نے اس ً مجبورا : " گی۔ دوں جانے نہیں اکیلا تمہیں میں مگر نہیں۔ سے مجھ تھا، سے تم وعدہ کا دادا جاؤ۔ رک حمزہ، گا۔ کرے بہتر اللہ کرو۔ اسٹارٹ بس کر پڑھ ' اللہ بسم ' تم ہوں، پڑھتی الکرسی آیت میں " " رکھا۔ پاؤں پر سیڑھی کی بس کر پڑھ " الرحیم الرحمن اللہ بسم پڑا پر زینے پہلے جوتا کا اس ہی جیسے ... میں۔ وردی سفید سب گئے۔ بیٹھ سائے 38 پر سیٹوں 38 اندر اٹھیں۔ جل ساتھ ایک لائٹیں تمام کی بس ہوگیا۔ شروع بجنا بخود خود ہارن گئی۔ کانپ روح کی خدیجہ اور حمزہ الفاظ سرخ جیسے خون ہوئی۔ روشن اسکرین ڈیجیٹل پر بورڈ ڈیش : `"12 گے؟ توڑو وعدہ یا ... گے چلاؤ بس حمزہ۔ کرو فیصلہ پہلے سے اذان کی مغرب ڈرائیور۔ 1 سوال۔ 3 گھنٹے۔ ` آزاد۔ خدیجہ تو چلائی بس نے تم اگر : نوٹ ہمیشہ دونوں تم تو کیا انکار اگر Never Jungle گے جائے ہو 40 پھر بعد کے 38 ... قید میں " تھا۔ ٹھنڈا جیسا برف سٹیرنگ لگایا۔ ہاتھ کو سٹیرنگ نے حمزہ تھا لکھا سے خون میں بیچ کے سٹیرنگ : `*"Yousuf – 1987"*` ہو رہا کھروچ سے اندر کوئی جیسے ابھرے، الفاظ نئے ہٹیں۔ بخود خود اینٹیں پر دیوار کی پل : __" تھا؟ کیا کیوں وعدہ سے انور پروفیسر پر 11:58 رات کی 1987 اگست 14 نے یوسف دادا تمہارے حمزہ، : سوال پہلا بند۔ دروازے کے بس اور ... غلط لفظ ایک لیے کے ہمیشہ ... گے جاؤ رہ یہیں دونوں تم اور ... گی چلے نہیں کبھی بس ورنہ ... دو جواب ..." ۔ الٹے الفاظ مگر لگی۔ آنے آواز کی اذان کی فجر میں جنگل دور لگا۔ بجنے بخود خود ہارن کا بس پورا جیسے Never Jungle کرو پورا وعدہ ... آؤ " : ہو رہا پکار کو حمزہ خود ..." لیا۔ لگا سے سینے قرآن نے خدیجہ دیکھا۔ طرف کی خدیجہ نے حمزہ لگے۔ دیکھنے کو دونوں ان کر گھما سر ساتھ ایک سائے 38 اندر کے بس --- باہر سے شیشے روشنی کہ تھی یہ بات عجیب مگر ہوں۔ رہی لڑکھڑا پلکیں کی کسی جیسے تھیں، رہی جھپک لائٹیں ٹیوب تھیں۔ آن لائٹیں تمام کی بس ہو۔ رکھا نا ہی قدم جگہ اس کبھی نے روشنی جیسے اندھیرا ایسا تھا۔ ڈوبا میں اندھیرے مکمل پل باہر تھی۔ رہی جا نہیں کہ ٹھنڈا اتنا تھا۔ ٹھنڈا جیسا برف سٹیرنگ تھا۔ ہوا جما پر سٹیرنگ ہاتھ مگر تھا شرابور سے پسینے جسم پورا کا اس تھا۔ بیٹھا پر سیٹ ڈرائیور حمزہ میں بیچ کے سٹیرنگ تھیں۔ رہی ہو سن انگلیاں "Yousuf – 1987"... کانپتی کے کر بند آنکھیں نے اس تھی۔ رہی کانپ مارے کے ڈر وہ تھا۔ ہوا لگایا سے سینے مجید قرآن نے اس تھی۔ بیٹھی سمٹی پر سیٹ مسافر خدیجہ دی کر شروع پڑھنا " الکرسی آیت " میں آواز : " ِ الاْ رْ ض فِ ي وَ مَ ا ِ الس مَ اوَ ات فِ ي مَ ا ُ ل ه ... ٌ نَوْ م َ وَ لا ٌ سِ نَة ُ تَا خُ ذُ ه َ لا ... ُ الْقَ ي وم الْحَ ي َ هُ و ا لا َ ا لَـه َ لا ُ ّ ا ..." میں۔ وردی یونیورسٹی سفید سب گئے۔ جھکا سر ساتھ ایک سائے 38 بیٹھے اندر کے بس پڑھا، " ُ الْعَ ظِ يم الْعَ لِي َ وَ هُ و " نے اس ہی جیسے ہوئے جھلسے بال تھا، ہوا جلا چہرہ آدھا کا اس چیخا۔ سایہ کا انور پروفیسر : " ہے قانون یہی سے 1987 ! گی چلے آواز کی مشین میری صرف یہاں ! تلاوت یہ کرو بند ! کرو بند !" بنے دوبارہ پھر مٹے، بنے، الفاظ سے خون لگا۔ رسنے خون سے اندر کے دیوار ہی ہٹتے اینٹیں ہٹیں۔ کر کھڑک بخود خود اینٹیں کی دیوار کی پل : `_" کے بس اور ... غلط لفظ ایک تھا؟ کیا کیوں وعدہ سے انور پروفیسر پر 11:58 رات کی 1987 اگست 14 نے یوسف دادا تمہارے حمزہ، : سوال پہلا کر بن 40 اور 39 ... لیے کے ہمیشہ ... گے جاؤ رہ یہیں دونوں تم ورنہ ... دو جواب بند۔ لیے کے ہمیشہ دروازے ..."_` ہسپتال جنرل لاہور گیا۔ آ یاد 2015 اسے گئیں۔ پھول رگیں کی ماتھے کے اس کیں۔ بند آنکھیں نے ،حمزہ ICU سانس آخری یوسف دادا ۔ 7 نمبر کمرہ کا لگانے کان کو حمزہ کہ دھیمی اتنی تھی، کی سرگوشی نے انہوں تھا۔ پکڑا ہاتھ کا حمزہ سے ہاتھ کانپتے نے انہوں کر ہٹا ماسک آکسیجن تھے۔ رہے لے تھے پڑے : " وعدہ تم ... گے ہوں نہیں آزاد وہ بغیر تمہارے ... کرنا پورا وعدہ ... قرض کا روح ... تھا لیا قرض وہاں نے میں ... جانا مت پور شاداں ... حمزہ بیٹا بیٹے میرے ... نبھانا ..." تھا۔ چکا ہو خشک گلا کا اس ہوں۔ ماری چھینٹیں کی پانی نے کسی جیسے تھا ایسے پر ماتھے پسینہ کھولیں۔ آنکھیں نے حمزہ " کے تجربے کے ' فریکوئنسی کی روح ' کے انور پروفیسر وہ تھے۔ کھڑے پیچھے کے بس کو 1987 اگست 14 وہ کیونکہ ... تھا کیا لیے اس وعدہ نے دادا سمیت بس اسٹوڈنٹس 38 اور پروفیسر مگر ... پہلے تھے گئے نکل سے بس دادا ... چیخیں گئی۔ لگ آگ ہوا۔ دھماکہ کی۔ آن مشین نے انور تھے۔ اسسٹنٹ تم اور گا آئے بیٹا کا نسل میری کہ ... کیا وعدہ میں سانس آخری نے دادا گیا۔ رک وقت اندر کے بس جیے۔ نہ مرے، نہ گئے۔ ہو قید میں لوپ ٹائم ایک گا۔ کرے آزاد کو سب " ابھرے۔ الفاظ سے روشنی سنہری جگہ کی خون پر بورڈ ڈیش گیا۔ ہو بند ہارن کا بس کہا، " گا کرے آزاد " نے حمزہ ہی جیسے `_" باقی۔ سوال 2 حل۔ سوال پہلا آزادی۔ : وعدہ کا دادا درست۔ جواب "_` گئیں پڑ دراڑیں پر شیشے کہ مارا مکا سے زور اتنے پر شیشے نے اس دھاڑا۔ سایہ کا انور پروفیسر : " ہے جھوٹ یہ ! جھوٹ ! --- اندر تھا۔ رہا اٹھ اوپر بخود خود شٹر کا ڈگی دیکھا۔ کر مڑ نے اس پڑی۔ اچھل خدیجہ آئی۔ آواز کی چرچراہٹ کی ڈگی پچھلی ہی ہوتے بند ہارن کا بس تھی۔ رہی آ بو کی زنگ سے تھا۔ کندہ نام کا یوسف دادا پر ڈبے مگر ہوا، ٹوٹا تالا آلود، زنگ رکا۔ کر آ سامنے ہوا لہراتا , میں ہوا ڈبہ آیا۔ نکل باہر ڈبہ کا لوہے ایک سے اندر "Yousuf Khan – Assistant – 1987" ۔ کے ہاسٹل کے خدیجہ جیسی ویسی بالکل تھی۔ ڈائری کی یوسف دادا لپٹی میں کپڑے پرانے کے ریشم اندر کھولا۔ ڈبہ سے ہاتھوں کانپتے نے خدیجہ ہو۔ گئی لکھی ہی کل جیسے تھی، رہی لگ تازہ سیاہی تھے۔ نہیں ہوئے جلے صفحے تھی۔ مکمل والی یہ مگر تھی۔ ملی میں کیس سوٹ ۔ " پل کا پور شاداں – 11:58 رات – 1987 اگست 14" : تاریخ پر صفحہ آخری تھے۔ رہے کانپ ہاتھ کے اس ہوئے پلٹتے صفحے کھولی۔ ڈائری نے خدیجہ تھی۔ ہوئی پھیلی سیاہی پر جگہوں کچھ مگر تھی لکھی سے سیاہی تحریر " بات میری نے انہوں گے۔ ہوں ناراض پاک اللہ ہے۔ گناہ یہ کہا کیا۔ منع نے میں ہیں۔ چاہتے کرنا ریکارڈ کو آواز کی روح وہ ہیں۔ گئے ہو پاگل صاحب انور دی۔ کر آن مشین نے انہوں مانی۔ نہیں سب نے میں ہے۔ گیا بن خون پانی کا ندی نیچے ہے۔ رہا ہل پل رہی۔ جا نہیں آگے بس ۔ ' بچاؤ بچاؤ ' ہیں۔ رہے چیخ اسٹوڈنٹس 38 گئی۔ لگ آگ ہوا۔ دھماکہ رہا۔ سن نہیں کوئی مگر دی آواز کو گا۔ کھلے نہیں دروازہ یہ کے خون بغیر گی۔ ٹوٹے لعنت تب دو، قربانی کوئی دو، قیمت کوئی یوسف، ' : کہا کر پکڑ گریبان میرا نے انور ' گا۔ کرے آزاد سے دعا سے، سچ سے، علم وہ گا۔ کرے آزاد کو سب تم وہ گا۔ آئے بیٹا کا نسل میری انور، ' : لکھا میں ڈائری کر جھٹک ہاتھ کا اس نے میں ہے۔ ٹوٹتی سے توبہ لعنت ٹوٹتی۔ نہیں لعنت سے قربانی ' ناممکن گا؟ کرے آزاد ہمیں کے قربانی کی خون بغیر گا۔ کرے کیا بیٹا تمہارا یوسف، ہیں دیکھتے کے؟ قیمت بغیر آزاد؟ ' : بولا اور ہنسا انور !' لے بچا کو پوتے میرے ... دے کر معاف اللہ یا ... پھر یا ... گی پہنچے تک حمزہ ڈائری یہ ... نکلا بھاگ میں ..." سے تم نے انہوں ۔ ' گے کرو آزاد کو سب تم ' تھا لکھا نے انہوں ... لکھی نہیں قربانی نے دادا ... سنو حمزہ، " دیا۔ کر شروع رونا کے کر بند ڈائری نے خدیجہ سے دعا سے، علم تھا کہا نے انہوں ! تھی مانگی نہیں موت تھی، رکھی امید !" بند۔ راستہ کا واپسی تھی۔ دھند صرف باہر دیکھا۔ باہر سے کھڑکی نے اس پکڑا۔ سے سختی کو سٹیرنگ نے حمزہ " ہو پورا وعدہ کا دادا شاید تو گا چلاؤں اگر گے۔ جائیں بن 40 ساتھ کے 38 گے۔ جائیں ہو قید یہیں دونوں ہم تو گا چلاؤں نہیں بس میں اگر خدیجہ، جائیں ہو آزاد سب وہ شاید ... جائے کھل راستہ شاید ... جائے ..." بوڑھے بچے، عورت، مرد، تھیں۔ رہی مل گھل میں دوسرے ایک آوازیں کی ان بولے۔ ساتھ ایک سائے 38 اندر کے بس : " ہمیں کرو آزاد ... ہیں رہے کر انتظار سے دن 12 مہینے، 4 سال، 38 ہم ... کرو پورا وعدہ ... بیٹھو ڈرائیور ... --- تھیں۔ پر حمزہ آنکھیں کی سب ان نہیں۔ ہاتھ پاس کے کسی غائب، دھڑ آدھا کا کسی ہوا، جلا چہرہ کا کسی سائے۔ 38 دیکھا۔ کر مڑ پیچھے نے حمزہ تھی۔ دی بنا دیوار پیچھے نے دھند تھا۔ نہیں راستہ کا جانے واپس پاس کے اس گئی۔ آ میں حلق جان کی اس آنکھیں، خالی دل کے اس چابی تھی۔ نہیں میں بورڈ ڈیش چابی کہ تھی یہ بات عجیب گھمایا۔ سٹیرنگ اور پڑھا " الرحیم الرحمن اللہ بسم " لی۔ سانس گہری نے اس تھا۔ گڑگڑاتا انجن کا بس پر دھڑکن ہر تھی۔ دھڑکن کی نہیں۔ ہی تھے کتے مگر دیا۔ کر شروع بھونکنا نے کتوں گونجی۔ میں گاؤں ویران کے پور شاداں پورے آواز گڑگڑایا۔ بار پہلی بعد سال 38 انجن کا بس تھی۔ آواز صرف فاطمہ، مریم، سعد، تھے۔ رہے مٹ اور تھے رہے بن چہرے 38 میں دھویں اور ٹھنڈا۔ سفید۔ جیسا برف تھا۔ سفید تھا۔ نہیں کالا دھواں مگر ... نکلا دھواں تھا۔ رہا ہو ہلکا دھواں ساتھ کے مسکراہٹ ہر تھے۔ رہے مسکرا سب ... کے اسٹوڈنٹس باقی اور خدیجہ پڑا پر پل ٹائر پہلا کا بس ہی جیسے مگر تھی۔ ندی خشک نیچے لگی۔ گزرنے سے پر حصے ہوئے ٹوٹے کے پل گھومے۔ پہیے بڑھی۔ آگے سی ہلکی بس ... گوشت والے، ہڈیوں ہاتھ۔ 38 لگے۔ نکلنے ہاتھ سے میں خون اور ہو۔ ہوا جما سے سال 38 جیسے خون ایسا خون۔ بدبودار سرخ، لگا۔ ابلنے خون سے ندے تھا۔ صاف نام کارڈ۔ ڈی آئی یونیورسٹی ایک میں ہاتھ ہر ہوئے۔ ٹوٹے ناخن ہوا، اترا نمبر رول ہی ایک تصویر، ہی ایک نام، ہی ایک پر کارڈ ہر : `" ۔ `" لٹریچر انگلش : ڈیپارٹمنٹ – 1987-08-14 – 13 نمبر رول – خدیجہ میں 2004 تو میں ہوں؟ کون میں کیوں؟ کے نام میرے ہے؟ ممکن کیسے یہ ! خدیجہ 38 ! ہیں کارڈز جو میں ندی یہ ! رکو حمزہ، " پڑی۔ چیخ خدیجہ ہے 47 بھی نمبر رول میرا ! ہوں ہوئی پیدا !" رہا ٹپک خون ابھرا۔ سوال دوسرا سے خون پر بورڈ ڈیش میں۔ ہوا ٹائر ایک ندی۔ کی خون نیچے گئے۔ لٹک پر کنارے کے پل ٹائر گئی۔ رک سے جھٹکے بس تھا : `_" گر میں ندی بس ورنہ ... دو جواب ہے؟ کیا نام اصل تمہارا تو ہو 38 اگر ہیں؟ کون خدیجہ 37 تو ہو 1 اگر ہو؟ 1 یا ہو 38 تم خدیجہ، : سوال دوسرا واں 40 حمزہ اور ... گی جاؤ بن روح ویں 39 تم اور ... گی جائے ..."_` تھا۔ رہا ہنس وہ اوپر۔ پاؤں نیچے، سر گیا۔ چڑھ الٹا پر چھت کی بس سایہ کا انور پروفیسر "... بولو سچ ہو؟ ٹکڑے کے روح ہی ایک دونوں تم یا ہو؟ تم خدیجہ والی ہونے پیدا میں 2004 یا ... ہو تم خدیجہ والی مرنے میں 1987 ... خدیجہ بتاؤ گے جاؤ ڈوب میں خون دونوں تم اور ! گا جائے ٹوٹ پل ورنہ !" آ تیز بہت اب آواز مگر تھی دور مسجد گئی۔ ہو تیز آواز کی اذان میں جنگل اور لگے۔ نکلنے کے کر ایک ایک بولٹ کے لوہے لگا۔ چرچرانے پل نیچے کے بس تھی۔ رہی کرو یاد ہو؟ کون تم بولو۔ سچ مت۔ ڈرو خدیجہ، " تھی۔ گئی بھیگ سے پسینے ہتھیلی کی اس پکڑا۔ سے سختی ہاتھ کا خدیجہ نے حمزہ !" روز ہر وہ تھی۔ سنائی کہانی کر بٹھا میں گود اسے نے دادی میں بچپن ... آیا یاد اچانک اسے تھے۔ رہے بہہ آنسو لگایا۔ سے سینے کو قرآن نے خدیجہ تھی رہی کانپ آواز کی دادی تھی۔ عجیب کچھ کہانی یہ لیکن تھی سناتی کہانی کی پریوں : " تھی۔ گئی مر میں حادثے ایک پھر جیسی۔ تمہاری آنکھیں تھی۔ پیاری بڑی تھی۔ گئی ہو پیاری کو اللہ میں حادثے کے 1987 اگست 14 لڑکی ایک بیٹا، بیٹا بلکل ہو جیسی کی اس تم ۔ 13 نمبر قبر تھا۔ کیا دفن میں قبرستان کے پور شاداں اسے تھا۔ خدیجہ بھی نام کا اس حادثہ۔ کا بس ..." ساتھ کے آنسوؤں کہا، میں آواز کانپتی نے اس گیا۔ رک سانس کا خدیجہ : " بے ... نام بے ... سب وہ ... ہیں قید میں بس اس روحیں 37 باقی ... سے ہمیشہ ہوں ساتھ تمہارے جو ... ہوں خدیجہ اصل میں ... میں ... حمزہ نام میرا صرف ... میں صرف ... مجھے معلوم نہیں ریکارڈ کوئی کا ان ... ریکارڈ ..." لگے۔ چٹخنے شیشے تمام کے بس کہا، " نام بے " نے اس ہی جیسے --- سفید روشنی تھیں۔ رہی جل مستقل اب لائٹیں ٹیوب لگی۔ لگنے محسوس بھی دھڑکن کی دل کہ ہوا سناٹا ایسا پھر اور ... گونجا بار آخری ہارن کا بس وقت جیسے تھیں۔ نہیں لہریں میں اس مگر تھی رہی بہہ بھی اب ندی کی خون نیچے کے پل باہر بلب۔ کے زمانے پرانے جیسے تھی زرد ہلکی تھی، نہیں ہو۔ گیا جم تھیں۔ ہوئی جمی پر سٹیرنگ انگلیاں کی اس گری۔ آ پر کندھوں کے اس میں لمحے ایک تھکاوٹ کی سال 38 دیا۔ ٹکا سر پر سٹیرنگ نے حمزہ " سکتا۔ دے نہیں میں گا۔ ہو دینا تمہیں جواب کا سوال دوسرے ... خدیجہ اب کارڈ ڈی آئی 38 تیرتے میں خون نیچے کے پل دیکھا۔ نیچے سے کھڑکی نے اس تھے۔ رہے کانپ ہاتھ کے اس رکھا۔ میں گود اپنی قرآن نے خدیجہ گیا۔ آ اندر سے کھڑکی ٹوٹی کی بس ہوا گھومتا کارڈ ہر لگے۔ آنے لہراتے میں ہوا کر اٹھ سے خون الگ۔ پر کارڈ ہر آنکھیں مگر ہی۔ ایک چہرہ ہی۔ ایک تاریخ ۔ "1987-08-14 – 13 نمبر رول – خدیجہ " : تصویر وہی نام، وہی پر کارڈ ہر : تھا لکھا سے ہاتھ ہلکے سے پنسل پیچھے پلٹا۔ کارڈ نے اس گئیں۔ ہو سن انگلیاں ٹھنڈا۔ جیسا برف اٹھایا۔ کارڈ ایک سے ہاتھوں کانپتے نے خدیجہ ۔ " فاطمہ " ۔ " زینب " : پیچھے اٹھایا۔ کارڈ دوسرا ۔ " مریم " : تیسرا ۔ " عائشہ " : چوتھا ۔ " صفیہ " : پانچواں صفیہ، عائشہ، مریم، زینب، فاطمہ، جلدی۔ جلدی لگی پلٹنے کے کر ایک لیے۔ کر جمع میں گود اپنی کارڈ 38 سارے نے اس گیا۔ ہو تیز سانس کا خدیجہ نام۔ 37 ... سمیہ رقیہ، سعدیہ، نسرین، آمنہ، تھی۔ رہی چبھ کو آنکھوں سفیدی کی کاغذ خالی۔ بالکل نہیں۔ کچھ پیچھے اٹھایا۔ کارڈ آخری ہے؟ خالی کیوں کارڈ ویں 38 یہ ہے؟ کیا یہ خدیجہ، " : پوچھا سے آہستہ نے حمزہ " لگے۔ گرنے ٹپ ٹپ آنسو سے آنکھوں کی خدیجہ " رجسٹرڈ کی یونیورسٹی وہ کیونکہ ۔ '13 نمبر رول – خدیجہ ' بنایا۔ ریکارڈ کا لڑکی ایک صرف نے انتظامیہ بعد کے حادثے کو 1987 اگست 14 ... حمزہ ان تھیں۔ گئی بیٹھ میں بس اجازت بغیر رجسٹریشن، بغیر پر، سیٹ فری ... لڑکیاں 37 باقی تھا۔ کنفرم داخلہ تھی، جمع فیس کی اس تھی۔ اسٹوڈنٹ خبر ایک صرف میں اخبار گئیں۔ ہو گم ہی ساتھ کے بس اور ... ہوئیں سوار میں بس وہ قبر۔ نہ جنازہ، نہ نمبر، رول نہ داخلہ، نہ بنا۔ نہیں ریکارڈ کوئی کا ۔ ' ہلاک ایک حادثہ، بس ' : چھپی " لیا۔ لگا سے سینے کارڈ خالی وہ نے خدیجہ "21 وہ تھی۔ میں بس اسی کو 1987 اگست 14 وہ ... خدیجہ پہلی ... مگر ہے۔ 47 نمبر رول میرا ہوئی۔ پیدا میں 2004 میں حمزہ۔ ہے کارڈ خالی یہ نشان۔ بے گئیں۔ رہ نام بے لڑکیاں 37 باقی اور دیا۔ بنا کارڈ یہ پر نام کے اسی لیے کے چھپانے شرمندگی نے انتظامیہ گئی۔ مر وہ تھی۔ کی سال " ایک میں روشنی ہر اور نکلی۔ روشنی نیلی ہلکی سے پر کارڈ ہر گئے۔ چپک سے چھت گھومے۔ اندر کے بس کارڈ دیے۔ اچھال میں ہوا کارڈ 37 نے اس تھی۔ لگی سے دیوار سے خوف کوئی تھی، رہی رو کوئی تھی، رہی ہنس کوئی کی۔ 20 کوئی کی، سال 17 کوئی ابھرا۔ چہرہ کا لڑکی 37 سرگوشی گئی دبائی بار ہزاروں تھی۔ سرگوشی تھی۔ نہیں چیخ گونجیں۔ ساتھ ایک آوازیں : " سے نام تمہارے ... ہو ویں 38 تم ... جاؤ بن نام ہمارا تم ... دی مٹی نے باپ نہ پڑھا، جنازہ نے ماں نہ ... تھا نہیں کوئی ہمارا ... خدیجہ تھیں نام بے ہم گی رکھے تو یاد دنیا ہمیں ... گی جائے ہو شناخت ہماری ..." کہا میں آواز بلند نے اس لیے۔ روک آنسو لیں۔ کر بند آنکھیں نے خدیجہ : " ہے۔ خدیجہ بھی نام کا سب تم ... عائشہ مریم، زینب، فاطمہ، نہیں۔ میرا صرف نام میرا سے آج ہوں۔ نہیں اکیلی میں مگر ہوں۔ خدیجہ ویں 38 میں ہوں۔ گواہی کی سب تم میں ہوں۔ آواز کی سب تم میں " نے اس گئے۔ سما میں سینے کے خدیجہ ذرے کے روشنی گئے۔ بدل میں روشنی ٹکڑے کے کاغذ گئے۔ بکھر کر چٹخ کارڈ 37 ہوئے، ادا الفاظ یہ ہی جیسے نام۔ ایک پر دھڑکن ہر تھیں۔ رہی دھڑک ساتھ ایک دھڑکنیں 38 تھی۔ نہیں ایک دھڑکن کی دل رکھا۔ پر دل ہاتھ بنے خود لفظ پر شیشے چمکا۔ اچانک بورڈ ڈیش کا بس : `_" آزادی توبہ اب دیا، نام نے علم باقی۔ سوال 1 حل۔ سوال دوسرا ہے۔ دار امانت کی روحوں نام بے 37 وہ مگر ... ہے ویں 38 خدیجہ درست۔ جواب گی۔ دے "_` کے اس پر فرش بڑھا۔ آگے آہستہ آہستہ وہ جیسی۔ انگارے آنکھ آدھی ہوا، جلا چہرہ آدھا تھا۔ رہا نہیں چیخ اب وہ اترا۔ سے چھت سایہ کا انور پروفیسر جاتے۔ جلتے نشان کے قدموں " زندگی یا گی دے موت جواب کا جس ... سوال آخری ... سوال تیسرا اب ... ہے باقی ابھی قید مگر ... گیا ہو مکمل ریکارڈ ... گیا مل نام ..." سے سیڑھیوں تھیں۔ رہی جا میں اندھیرے گہرے نیچے سیڑھیاں آئیں۔ نکل سیڑھیاں سے میں بیچ گیا۔ بٹ میں حصوں دو بخود خود فرش کا بس آواز۔ کی مشینوں چرچراہٹ، کی ریکارڈر ٹیپ پرانے میں ہوا تھی۔ رہی آ ہوا ٹھنڈی گیا۔ اتر سیڑھیاں اور مڑا سایہ کا انور پروفیسر " تھا ہوا شروع سب یہ سے جہاں ... ہے وہیں سوال تیسرا ... دونوں ... آؤ نیچے ..." تھی۔ چکی بھیگ سے پسینے ہتھیلی کی اس پکڑا۔ سے سختی ہاتھ کا خدیجہ نے حمزہ " کرو۔ وعدہ چھوڑنا۔ نہ ہاتھ بھی لیے کے سیکنڈ ایک رہو۔ ساتھ میرے " ہو۔ رہا چل ساتھ پیچھے کوئی جیسے ہوتا محسوس اور گونجتی۔ آواز کی قدموں کے ان پر سیڑھی ہر لگے۔ اترنے سیڑھیاں دونوں ہلایا۔ سر نے خدیجہ اینالاگ بڑی بڑی ریکارڈر، ٹیپ پر میزوں بورڈ۔ بلیک ہوا ٹوٹا میں کونے جالے، پر چھت کی، سیمنٹ دیواریں تھی۔ لیبارٹری کی 1987 نیچے کے سیڑھیوں بو۔ کی تاروں ہوئے جلے اور فارملین میں ہوا جال۔ ہوا الجھا کا تاروں مشینیں، ہر تھے۔ رہے تیر بلبلے کے جھاگ 38 میں پانی تھا۔ ہوا بھرا پانی نیلا اندر کے چیمبر اونچا۔ فٹ سات تھا۔ چیمبر سلنڈر کا شیشے ایک میں بیچ کے کمرے چہرہ۔ دھندلا ایک اندر کے بلبلے حروف بڑے سے پینٹ پر دیوار : " انور پروفیسر : محقق – کرنا ریکارڈ آواز کی روح بعد کے موت : مقصد – 1987-08-14 – 13 نمبر تجربہ – ریکارڈر فریکوئنسی کی روح " تھے۔ نشان کے ہاتھ ہوئے جلے کے اس پر مشین پھیرا۔ ہاتھ پر مشین نے اس گیا۔ ہو کھڑا کر جا پاس کے مشین سایہ کا انور پروفیسر " پر لاشوں بنائی۔ مشین نے میں ہے۔ گرام 21 وزن کا روح کہ تھا چاہتا کرنا ثابت میں ... ایوارڈ پیپر، ریسرچ ڈی، ایچ پی ... حمزہ تھا سائنسدان میں ہے۔ کہتی ' اللہ ' بھی بعد کے مرنے جو ہے سانس وہ روح ہے۔ دعا روح ہے۔ آواز روح ... نہیں وزن روح تھا۔ غلط میں مگر کیا۔ تجربہ " ویں 38 نام۔ 37 ... عائشہ زینب، فاطمہ، مریم، سعد، : ہوتا فلیش نام ایک پر لہر ہر لگیں۔ دوڑنے لہریں ہری پر اسکرین دبایا۔ بٹن آلود زنگ کا مشین نے اس تھی۔ خالی لہر " گئی۔ پھٹ مشین چاہا۔ کرنا قید میں فارمولے سائنسی کو قدرت کی اللہ نے میں تھا۔ ہوا سے تکبر میرے دھماکہ ... بیٹا تھا ہوا نہیں سے مشین دھماکہ پر۔ فائی وائی کے برزخ میں۔ درمیان مردہ۔ نہ زندہ، نہ گئے۔ پھنس میں فریکوئنسی اس سب ہم " دیکھا۔ طرف کی حمزہ نے اس " سال 38 اب ۔ ' گا بنوں خدا میں ' کہا کہا۔ پاگل اسے نے میں ۔ ' ہے ہوتا ایمان پہلے سے علم لو۔ کر توبہ انور، ' تھا کہا تھا۔ روکا مجھے نے یوسف دادا تمہارے ہوں۔ کرتا توبہ میں ... سمجھا میں ... بعد " ابھرے لفظ پر دیوار لگی۔ چٹخنے مشین رکھا۔ پر مشین ہاتھ اپنا نے اس : `_" اذان کی مغرب ... کرو فیصلہ ایک کی؟ انور پروفیسر یا ... تمہاری گی؟ ہو قبول کی کس توبہ مگر ... ہے ٹوٹتی سے توبہ لعنت حمزہ، : سوال تیسرا نے پروفیسر اگر گے۔ رہیں آتے مسافر گی، رہے چلتی بس لیے۔ کے ہمیشہ ... گے رہو بنے ڈرائیور تم تو کی بند مشین کر پڑھ ' اللہ بسم ' نے تم اگر تک۔ کم وقت ... کرو فیصلہ گا۔ جائے ہو فنا پروفیسر مگر گے۔ رہو زندہ دونوں تم اور ... آزاد روحیں 38 تو دیا ڈال میں مشین کو خود کر پڑھ ' استغفراللہ ' ہے ..."` ۔ " اکبر اللہ ... اکبر اللہ " گئی۔ ہو شروع اذان کی مغرب میں جنگل قید ایک بس کر رہ مردہ نہ زندہ تھا۔ سکتا چلا ہمیشہ کو بس کر بن ڈرائیور وہ گیا۔ پر بٹن ہوئے لرزتے ہاتھ کا اس بڑھایا۔ قدم طرف کی مشین نے حمزہ میں۔ تھا۔ خوف میں آنکھوں کی اس لیا۔ پکڑ ہاتھ کا اس کر دوڑ نے خدیجہ " گا۔ کھلے سے سچ گا۔ کھلے نہیں دروازہ سے قربانی تمہاری ...' کرو مت قربان کو خود ... کرو آزاد سے علم ' تھا لکھا میں ڈائری نے دادا ! نہیں حمزہ، " " کرو۔ پورا وعدہ تم جیو۔ تم ہے۔ باری میری اب گیا۔ بھول کو خدا میں غرور کے علم کیے۔ گناہ بہت نے میں ہیں۔ ہوتے بہت سال 38 بیٹا، " اڑ میں ہوا کر نکل بلبلے 38 سے میں پانی گیا۔ پھیل پر فرش نکلا۔ بہہ باہر پانی نیلا گیا۔ کھل شیشہ رکھا۔ پر چیمبر کے شیشے ہاتھ ہوا جلا اپنا نے اس گئے۔ کہا میں آواز بلند اور دیکھا طرف کی آسمان نے پروفیسر : " الیہ اتوب و ذنب کل من ربی استغفراللہ ... استغفراللہ ... استغفراللہ " روشن پوری لیے کے سیکنڈ ایک مشین گیا۔ سما اندر کے مشین کر گھوم دھواں گیا۔ بدل میں دھویں سفید جسم کا اس ہی کرتے ادا " استغفراللہ " تیسرا گئی۔ پھٹ سے دھماکے پھر اور ... ہوئی آس رہے۔ محفوظ وہ گیا۔ بن دائرہ نور پر ایک پر خدیجہ اور حمزہ مگر گریں۔ دیواریں ٹوٹے۔ شیشے گونجی۔ میں جنگل اور گاؤں پورے آواز کی دھماکے تھا۔ دھواں ہی دھواں پاس سامنے تھی۔ گئی چھٹ دھند تھی۔ چکی بن پانی صاف ندی کی خون نیچے تھا۔ چکا جڑ پل تھا۔ ڈھیر کا مٹی صرف تھی۔ نہیں بس تو چھٹا دھواں تھا۔ رہا لگ نہیں ویران گاؤں اب مگر تھا۔ گاؤں کا پور شاداں ابھری سیاہی پلٹا۔ بخود خود صفحہ آخری کا ڈائری تھی۔ ڈائری کی یوسف دادا میں ہاتھ کے ان تھے۔ کھڑے پر پل خدیجہ اور حمزہ : "14 دی۔ نہیں قربانی کیا۔ آزاد سے دعا سے، سچ سے، علم نے اس آیا۔ بیٹا کا نسل میری ہوا۔ پورا وعدہ پل۔ کا پور شاداں – 7:02 رات – 2026 اگست Never Jungle رکھنا یاد شرط ایک مگر ... گا جائے بھی واپس وہ ... گا آئے جو اب گیا۔ کھل دروازہ کا ..." دیا۔ رکھ سر پر کندھے کے حمزہ کر تھک نے خدیجہ " گیا ہو آزاد بھی انور پروفیسر ... ہیں آزاد اسٹوڈنٹس 37 ... ہیں آزاد ہم حمزہ، ..." کندہ پر دروازے ہوا۔ جڑا سے پٹیوں کی لوہے اونچا، فٹ سات دروازہ ہوا۔ نمودار دروازہ پرانا کا لکڑی ایک ہٹی۔ مٹی پھٹی۔ زمین میں بیچ کے جنگل دور تھا : `_"NEVER JUNGLE – EXIT GATE – FOR THOSE WHO KEPT THE PROMISE"_` کی مغرب ابھی ... بات عجیب مگر تھی۔ رہی آ ہوا ٹھنڈی تھے۔ رہے چہچہا پرندے تھی۔ روشنی سنہری کی فجر باہر گیا۔ کھل خود ہوا چرچراتا دروازہ تھا۔ گیا ٹوٹ چکر کا وقت تھی۔ رہی ہو اذان پکڑا۔ ہاتھ کا خدیجہ نے حمزہ " گیا اتر قرض کا دادا ... گیا ہو پورا وعدہ ... ہیں چلتے گھر ... خدیجہ چلو ..." تھے۔ گئے رہ دور قدم تین سے دروازے پڑے۔ چل طرف کی دروازے دونوں وہ پیچھے Never Jungle تھے۔ کھڑے آگے سے سب انور پروفیسر تھیں۔ رہی مسکرا کھڑی روحیں 38 میں آواز کی یوسف دادا دھیمی۔ بہت آئی۔ آواز ایک سے پیچھے کے دروازے تبھی اور : " لیے کے ہمیشہ وہ ... گا دیکھے پیچھے جو ... دیکھنا مت بھی بلکل کر مڑ پیچھے ... ہے باقی شرط ایک مگر ... ہے کھلا دروازہ ... حمزہ بیٹا Never Jungle گا جائے بن حصہ کا ..." پیچھے لیکن تھی۔ روشنی آگے پکڑا۔ سے زور اور ہاتھ کا اس نے خدیجہ گیا۔ رک قدم کا حمزہ ... تھا باقی ابھی فیصلہ ... __ پھیل روشنی سنہری کی فجر آگے تھیں۔ برف ٹھنڈی انگلیاں کی اس لیا۔ بھینچ سے ہاتھوں دونوں کو ہتھیلی کی اس نے خدیجہ گیا۔ رک قدم کا حمزہ پیچھے تھی۔ رہی Never Jungle آگے۔ سے سب انور پروفیسر تھیں۔ کھڑی روحیں 38 تھا۔ اندھیرا کا تھے۔ رہے آ نہیں نظر کہیں مگر سے، قریب بہت آئی۔ پھر آواز کی یوسف دادا " لیے کے ہمیشہ وہ ... گا دیکھے پیچھے جو ... دیکھنا مت بھی بلکل کر مڑ پیچھے ... ہے باقی شرط ایک مگر ... ہے کھلا دروازہ ... حمزہ بیٹا Never Jungle گا۔ جائے بن مسافر واں 39 وہ ... گا جائے بن حصہ کا " 38 سے پیچھے اور۔ انچ آدھا پھر انچ۔ ایک لگی۔ مڑنے آہستہ آہستہ گردن کی اس تھیں۔ بوندیں کی پسینے پر ماتھے کے اس لی۔ روک سانس نے حمزہ اٹھیں۔ ساتھ ایک سرگوشیاں " ہے دیکھنا نام اپنا میں آنکھوں تمہاری بس ... گا لگے نہیں ڈر ہمیں ... ہیں رہے مسکرا ہم ... لو دیکھ بار ایک ... حمزہ ..." دھوکہ۔ کا پل ایک بس یہ میں حقیقت لیکن تھا۔ والا مڑنے وہ گئی۔ ہو نم آنکھ کی حمزہ تھی۔ بلند مگر تھی رہی کانپ آواز کی اس لیا۔ لگا سے سینے کو قرآن نے خدیجہ `" ُ الْوَ كِ يل َ وَ نِعْ م ُ ا حَ سْ بُنَا "` کھولیں۔ آنکھیں سے جھٹکے نے اس گئی۔ رک گردن کی حمزہ گئی۔ تھم ہوا گئی۔ چھا خاموشی مکمل اور ہوگئی بند آنا آوازیں ہی سنتے آواز کی آیت پڑی۔ گر ساتھ کے اس بھی خدیجہ دی۔ لگا چھلانگ میں روشنی دیا۔ دھکیل آگے کو خود نے اس تھا۔ عزم مگر تھے آنسو میں آنکھوں گیا۔ رک وقت دھند۔ سفید سامنے کے آنکھوں تھی۔ سیٹی کی ہوا میں کانوں ہوں۔ رہے گر میں خلا وہ جیسے لگا لیے کے لمحے ایک آواز۔ کی دھڑام پھر چہروں کے ان کرن پہلی کی سورج نیلا۔ صاف تھا۔ آسمان اوپر گھاس۔ بھیگی سے شبنم ٹھنڈی، تھے۔ پڑے گرے پر گھاس وہ کھولیں۔ آنکھیں نے حمزہ تھی۔ رہی پڑ پر کہا ہوئے بیٹھتے کر اٹھ کر ہڑبڑا نے خدیجہ : " ؟ ... آوازیں یہ ... یہ ہیں؟ کہاں ہم ... ہم ... حمزہ " جامعہ "` : تھے رہے جگمگا حروف سنہری بڑے پر گیٹ تھا۔ گیٹ بڑا بہت ایک سامنے عمارتیں۔ اونچی اونچی طرف چاروں دیکھا۔ ادھر ادھر نے حمزہ یونیورسٹی پنجاب – University of the Punjab" ۔ ` 13 نمبر بس صبح کی 1987 اگست 14 پہلے سال 38 جہاں جگہ اسی ٹھیک میں۔ لان اسی عین تھے۔ کھڑے بیچ بیچوں کے یونیورسٹی دونوں وہ مٹی۔ وہی بینچ۔ کی سیمنٹ وہی درخت۔ کا برگد وہی تھی۔ ہوتی کھڑی کہا۔ ہوئے ہوتے کھڑے کر اٹھ سے جھٹکے نے حمزہ " ہمیں کر ٹوٹ چکر کا وقت تھا۔ گیٹ یہی تھا۔ درخت یہی تھی۔ نکلی سے یہیں بس کو 1987 اگست 14 سے۔ قسم ہے۔ جگہ وہی یہ ... یہ ... خدیجہ ہے۔ کیا کھڑا لا پر شروع " رہا پی چائے کھڑا پر ریڑھی کی چائے کوئی تھے۔ رہے آ یونیورسٹی میں رکشے پر، بائیک پر، سائیکل طلبہ تھا۔ وقت کا صبح دیکھا۔ ادھر ادھر نے خدیجہ تھیں۔ رہی جا طرف کی کلاس ہوئی سنبھالتی دوپٹے لڑکیاں تھا۔ رہا کر باتیں کر ہنس ہنس گروپ کا لڑکوں تھا۔ بیٹھا پر بینچ کھولے کتاب کوئی تھا۔ جیسے تھے۔ یہیں سے ہمیشہ وہ جیسے تھا۔ رہا دیکھ نہیں سے نظروں عجیب انہیں بھی کوئی Never Jungle تھا۔ خواب ایک آخری تو۔ کھولی ڈائری تھی۔ ڈائری کی یوسف دادا میں ہاتھ کے خدیجہ تھی۔ غائب وردی والی ڈرائیور ہوئی پھٹی کی اس دیکھے۔ کپڑے اپنے نے حمزہ تھے رہے بن لفظ تھی۔ رہی ابھر بخود خود سیاہی پر صفحے : "14 گیا۔ آ واپس بیٹا کا نسل میری ہوا۔ پورا وعدہ لان۔ کا پنجاب جامعہ – 5:43 صبح – 2026 اگست Never Jungle لوٹ وہ گا جائے جو اب میں ہے۔ سکتا آ بھی کر Never Jungle کہ گا بتائے کو دنیا اور ... گا جائے بھی واپس وہ ... گا آئے جو اب دیکھا۔ نہیں پیچھے پوری۔ شرط بند۔ دروازہ کا نہیں۔ قاتل کوئی بڑا سے فراموشی ہے۔ ہوتی موت بھی موت نام بے " ۔ دی۔ کر بند ڈائری نے خدیجہ " گیا۔ اتر قرض کا دادا ہے۔ آزاد بھی انور پروفیسر ہیں۔ آزاد بھی روحیں 38 گئے۔ آ واپس ہم ہیں۔ آزاد ہم ... حمزہ " پتہ ایک نے حمزہ تھا۔ رہا آ نیچے ہوا گھومتا آہستہ آہستہ پتہ ہر آواز۔ کی سرسراہٹ لگے۔ جھڑنے پتے سے درخت کے برگد لگے میں لان لمحے اسی ٹھیک نسرین، آمنہ، ۔ " صفیہ " : پانچواں ۔ " عائشہ " : چوتھا ۔ " مریم " : تیسرا ۔ " زینب " گرا۔ پتہ دوسرا ۔ " فاطمہ " : تھا ہوا لکھا نام ایک سے سیاہی پر پتے پکڑا۔ نام۔ 37 پتے۔ 37 ... سمیہ رقیہ، سعدیہ، ہاتھوں کانپتے نے خدیجہ گیا۔ گر کر آ میں قدموں کے خدیجہ ہوا لہراتا میں ہوا پتہ وہ سفید۔ تھا۔ خالی بالکل پتہ وہ گرا۔ میں آخر سے سب پتہ آخری تھی۔ نہیں اپنی کی خدیجہ لکھائی ۔ "2026 – 47 نمبر رول – خدیجہ " : تھا ہوا لکھا نام اپنا کا اس اب پر پتہ اٹھایا۔ پتہ سے تھی آواز گزار شکر بہت ہوئی، تھکی بہت نرم، بہت تھی۔ نہیں گونج خوفناک وہ اب مگر گونجی۔ میں ہوا آواز کی انور پروفیسر : `" چاہا کرنا قید کو روح میں مشین نے میں ہے۔ ایمان پہلے سے علم تھا۔ کہا سچ نے یوسف دادا تمہارے گیا۔ ہو آزاد میں ... خدیجہ بیٹی ... حمزہ بیٹا شکریہ۔ دیا۔ دے واپس نام میرا مجھے نے تم لیا۔ کر راضی کو خدا سے دعا نے تم دیا۔ کر ناراض کو اللہ اور "` گئی۔ ہو ختم آواز آئے۔ ہوئے دوڑتے وہ تھے۔ رہے کر ڈیوٹی پر گیٹ اسی سے سال 30 تھے۔ بوڑھے کے سال 60 وہ دیکھا۔ انہیں نے صاحب بشیر چوہدری گارڈ کھڑے پر گیٹ تھی۔ لاٹھی میں ہاتھ " کیا؟ ہو آئے کرنے چوری ہیں۔ ہوئے بھرے سے مٹی ... جوتے تمہارے ... کپڑے تمہارے ہے؟ سوتا کون کو رات یہاں ہو؟ کون تم ... پتر او بی، او " کہا۔ کر مسکرا نے حمزہ " ہے۔ گیا بن ریکارڈ ہمارا آج تھا۔ لائن ایک نام ہمارا میں اخبار تھا۔ نہیں ریکارڈ کوئی کا جن ہیں اسٹوڈنٹس وہ ہم ... چاچا " کہا ہوئے کھجاتے سر نے صاحب چوہدری : " دکھاؤ۔ کارڈ ہے؟ کیا نمبر رول تمہارا سکتا۔ ہو نہیں داخل کوئی کارڈ بغیر نمبر، رول بغیر یہاں ہے۔ پنجاب جامعہ یہ بیٹا ریکارڈ؟ " کہا۔ کر بڑھ آگے نے خدیجہ " ہے۔ انسانیت ... نمبر رول کا ان اور ہوں۔ طالبہ کی ایس بی میں ہے۔ 47 نمبر رول میرا ... چاچا گئیں۔ ہو نم آنکھیں کی ان دیے۔ ہنس صاحب چوہدری " ہے۔ تقریب میں یونیورسٹی ہے۔ اگست 14 آج ... ہاں اور ہے۔ لگی مٹی پر چہرے تمہارے لو۔ دھو منہ کر جا روم واش پہلے میں۔ بعد فلسفہ بی، چلو وہ۔ ہیں تو ہی بچے کے عمر تمہاری جانا۔ آ بھی تم میں۔ یاد کی طالبات گمشدہ اور شہداء " 14 – نام کے ناموں ہوئے بھولے ان " : تھا لگا بینر بڑا پر اسٹیج تھا۔ ہوا بھرا کھچ کھچا ہال تھی۔ تقریب میں ہال مرکزی کے یونیورسٹی بجے 7 شام دوپٹہ۔ سفید ایک پر کرسی ہر تھیں۔ رکھی کرسیاں خالی 38 نیچے کے بینر ۔ "1987 اگست لیا۔ لے پر سر دوپٹہ نے خدیجہ گئے۔ بیٹھ پر کرسی آخری بالکل خدیجہ اور حمزہ پکڑا۔ مائیک آئے۔ پر اسٹیج صاحب چانسلر وائس ": تھی لکھی لائن ایک بس میں ریکارڈ سرکاری تھے۔ ہوئے پیارے کو اللہ میں حادثے بس کو 1987 اگست 14 جو ہیں کرتے یاد کو طالبات 38 ان ہم آج 37 وہ ہم آج تھے۔ نام بے 37 تھا۔ نام کا 1 لکھا تھے۔ اسٹوڈنٹس 38 نہیں، ایک ... ہے چلا پتہ ہمیں بعد سال 38 مگر ۔ ' ہلاک اسٹوڈنٹ ایک حادثہ، بس ' ہے۔ قیمتی جان ہر کہ جانے دنیا تاکہ گے۔ پڑھیں نام " کہا نے اس تھا۔ ہوا پکڑا مائیک میں ہاتھ بڑی۔ بڑی آنکھیں پتلی۔ دبلی کی۔ سال 9 آئی۔ بچی ایک پر اسٹیج : " تھا۔ نہیں میں فہرست بھی نام کا ان تھے۔ ڈرائیور کے بس اسی عبدالرحمن شہید بابا میرے ہوں۔ آئی سے کوئٹہ میں ہے۔ نائلہ نام میرا علیکم۔ اسلام گی۔ پڑھوں نام کے اسٹوڈنٹس 37 ان میں آج بتایا۔ مجھے نے چچا ایک مگر پڑھے۔ نام 37 کے کر ایک کھولا۔ کاغذ نے نائلہ پڑی۔ رو وہ گئی۔ نکل چیخ کی خدیجہ تو گیا پڑھا "13 نمبر رول – خدیجہ " نام آخری جب کہا کر رکھ مائیک نے نائلہ : " نام بے کہ بتایا ہمیں نے اس دی۔ گواہی ہمیں نے اس دیا۔ نام ہمیں نے اس ہے۔ 47 نمبر رول کا جس ہے۔ بیٹھی بیچ ہمارے آج جو ... خدیجہ ویں 38 اور ہے۔ موت رہنا " اندھیرا۔ مکمل گئیں۔ بجھ لائٹس ساری کی ہال کہا میں کان کے اس سے آہستہ ہوئے دباتے ہنسی اپنی نے حمزہ : " لگتی۔ نہیں اچھی ہوئے روتے تم اور نہیں۔ جنازہ تمہارا آج خدیجہ۔ مت رو " ۔ " یار تم ہو بدتمیز بہت اب پر تنے کے درخت تھی۔ ٹھنڈی رات گئے۔ آ نیچے کے درخت کے برگد اسی پھر خدیجہ اور حمزہ گیا۔ ہو خالی ہال گئے۔ چلے سب گئی۔ ہو ختم تقریب تھا لکھا سے حروف سنہری پر تختی تھی۔ لگی تختی کی مرمر سنگ چھوٹی ایک صرف تھی۔ نہیں روشنی کوئی تھا۔ نہیں دروازہ کوئی : " خدیجہ۔ اور حمزہ آئے۔ وارث دو کو 2026 اگست 14 گئیں۔ رہ نام بے 37 تھا۔ میں ریکارڈ نام کا 1 ہوئیں۔ شہید طالبات 38 کو 1987 اگست 14 یہاں ہے۔ مقدس جگہ یہ اب لائے۔ حقیقت سامنے کے دنیا اور دیا نام کو طالبات نام بے 37 باقی ان نے انہوں تھی۔ ٹھنڈی مٹی رکھا۔ ہاتھ کر ٹیک گھٹنے پر زمین نے حمزہ تھی۔ چکی تھک وہ دیا۔ رکھ پر کندھے کے حمزہ سر نے خدیجہ " نا؟ تھا رہا لگ ڈر ... حمزہ کہا اور بھری آہ لمبی پھر دیکھا طرف کی آسمان نے حمزہ : " نائلہ ۔ 39 بلکہ ہیں۔ 38 ہم اب کیونکہ نہیں۔ ڈر اب گی۔ رکھے نہیں یاد ہمیں دنیا کہ لگا جب ہیں۔ اکیلے ہم کہ سوچا نے ہم جب تھا لگا وقت اس ڈر ہے۔ لیتا نام کا ناموں بے جو ہے ساتھ ہمارے انسان وہ ہر اور ہے۔ ساتھ ہمارے بھی " لکھا اور بھری۔ سیاہی نکالا۔ قلم سے جیب نے اس تھا۔ خالی صفحہ آخری کا ڈائری کھولی۔ ڈائری کی دادا نے خدیجہ : " وہ ہوتیں۔ نہیں ختم کہانیاں کیونکہ ... ہوئی نہیں ختم مگر ہوئی۔ ختم وہیں تھی۔ ہوئی شروع کہانی سے جہاں ہیں۔ کھڑے بیچ کے یونیورسٹی ہم نہیں موت موت، نامی بے کہ گا جائے بتایا دن پہلے کو علم طالب نئے ہر اور گے۔ جلیں چراغ 38 یہاں کو اگست 14 ہر اب ہیں۔ ہوتی منتقل میں نسلوں کے۔ ناموں بے ہیں وارث ہم گے۔ دیں ہونے نہیں فراموش ہم اور ہے۔ ہوتی فراموشی ... ہوتی " گئی۔ ہو خشک سیاہی دیا۔ کر بند قلم نے اس لگائی آواز ہوئے مارتے پر زمین لاٹھی نے گارڈ کے یونیورسٹی لمحے اسی ٹھیک : " ہے۔ گیا ہو وقت کا کرنے بند گیٹ کیا؟ ہے نہیں جانا نے دونوں آپ ! بی ! بیٹا " بڑھایا۔ ہاتھ طرف کی خدیجہ نے اس ہوا۔ کھڑا حمزہ " ہیں۔ چلتے اب خدیجہ چلو ہیں۔ رہے آ ! چاچا جی " پر پتہ اس ہو۔ گیا پھینکا سے پیار جیسے آہستہ۔ بہت گرا۔ پتہ آخری ایک سے درخت کے برگد تبھی لگی، اٹھانے بیگ اپنا اور اٹھی خدیجہ ہی جیسے ۔ " آزاد " : سے سیاہی سنہری تھا۔ لکھا لفظ ایک صرف تھیں۔ گئی بھیگ آنکھیں کی اس دیا۔ کو خدیجہ کر اٹھا پتہ نے حمزہ " ہے۔ سرٹیفکیٹ تمہارا یہ ... خدیجہ لو Never Jungle ہے۔ یہ ڈگری کا۔ ہونے التحصیل فارغ سے ہنسی۔ خدیجہ پکڑا۔ ہاتھ کا خدیجہ نے حمزہ " نمبر رول تمہاری۔ ہے کلاس ہے۔ جانا بھی یونیورسٹی صبح پھر ہے۔ لگی ریڑھی کی چاچا چوہدری پر گیٹ گے۔ چلیں ہوئے پیتے چائے ... خدیجہ چلو کلاس۔ والی 47" سے۔ سکون تھیں۔ رہی سو روحیں 38 میں جڑوں کی اس تھا۔ کھڑا خاموش درخت کا برگد پیچھے پڑے۔ چل پینے چائے دونوں وہ کرتے باتیں ہنستے ساتھ۔ کے یاد مگر بغیر کے قبر ساتھ۔ کے نام اپنے اب تھا لکھا میں حروف بڑے پر پوسٹر تھا۔ گیا لگ پوسٹر نیا ایک رات راتوں پر دیوار مرکزی کی یونیورسٹی : "14 ہے۔ داری ذمہ ایک کہانی ہر ہے۔ کہانی ایک نام ہر گے۔ دیں نہیں بھولنے ہم نہیں۔ بھولے ہم طالبات۔ 38 – 1987 اگست " تھا لکھا میں حروف چھوٹے نیچے کے پوسٹر : خدیجہ ، حمزہ `*[ شد ختم ]*`