تجدید ِمذہبواسبابوعلل 2 تجدید ِمذہبواسبابوعلل بقلم: منشی محمد صاد ق ﴿ سالِ تحریر: 1996 ء ﴾ سا بقہ گاو ٴ ں بھیرہ تحصیل مینڈھر، ضلع پونچھ مقبوضہ کشمیر__ مو جودہ ہ تہ تھلہیر کالونی﴿کشمیر کالونی﴾ کوٹلی آ زآہکشمیر ﴿ تبصرہ ِ ونظر ی انی : 31/7/ 2025 ﴾ تبصرہ : داکٹر یدرحافی ِ نظر یانی: ر ﴿ ر ﴾ گل اختر nazarhaffi@gmail.com 3 بسم ا للہ ا لرحمن ا لرحیم تجدید ِمذہبواسبابوعلل بحوآ لہ منشی محمد صاہ ق صاحب مرحوم ومغفوز : سا بقہ گاو ٴ ں بھیرہ تحصیل مینڈ ھر، ضلع پونچھ مقبوضہ کشمیر__موجودہہ تہ تھلہیر کالونی﴿کشمیر کالونی﴾ کوٹلی آ ز آ ہکشمیر تبصرہ :داکٹر یدرحافی عقیدے کی تبدیلی ا ی ک د ا خلی ہجربہے ۔ تحقیق نہ ہو تو عقیدہ انسانکیلئے ایک ی اریک قفس بن جایا ہے۔ مجھے ایسے افرادمیں ہمیشہ دلچسپی ر ہی ہے کہ جنہو ن ے تحقیق کی د نیا میں دو سرو ن کے عقائد کو چھیڑے کے بجائے ا پنے ہی عقیدے پرسوال ا ٹھاے کی جسارب کی ۔ میری ا س دلچسپی کی وجہ یہ ہے کہ میرے نزدیکجو عقید ہ عقل کی د ہلیز پر دستک نہ دے وہ اپناے کے قایل بھی نہیں ہویا۔ ا ببھی اگر سوچیں تو ا بکو احساس ہوگا کہ تحقیق ، انسانکو عقید ے کے مورو ثی رندان سے ا رادکر کے اُسے ا ی ک رندہ ویائندہ یقین عطا کرتی ہے ، ا یسا یقین جو نہ نعصبکا اسیر ہویاہے ، ا ور نہ جمو دکا ار ی ۔ میں ےہمیشہکھلے د لکے ساتھتحقیق کرے و الےلوگون کےقلوبمیں اتر ےکی کوش کی ہے یاکہ یہ سمجھ سکون کہ تبدیلی مذہبکے بعد وہ کیسا محسوس کرتے ہیں ! ہردفعہ ج بمیں کسی ایسے شخصسے 4 ملا تو مجھے یہی محسوس ہواکہ سچائی اپنے ا بکو عقل سے متصادم نہیں ہوے د یتی ، ا ور جو عقید ہ عقل ا ور تحقیق سے خائف ہو، وہ سچائی کا ہمزا دنہیں ہو سکتا۔ لوگون کی اکثرنت اپنے عقید ے کے یارے میں تحقیق کرے کو کفر سمجھتی ہے ۔ لوگ درتے ہیں کہ کہیں تحقیق کرے سے انکا عقیدہ لط یانتنہ ہو جائے۔ بہت ہی کم افرادیہ جانتے ہیں کہ تحقیق ا ی ک ا یسا ا ئینہ ہے کہ جس میں ا نسانکو اپنے عقید ےکی حقیقی ا ور اصلی صورب نظر ا تی ہے ۔ ا گر تحقیق کے ا ئینے میں ا پنا عقیدہ بدشکل نظر ا ئے تو سمجھ جایا چاہیے کہ میرے یاس جو عقیدہ ہے وہ دراصل ایک د ھوکہ ہے۔ جو عقیدہ تحقیق سے یانتہو جائے صرف وہی انسانکو مخلوق کے من گھڑبعقیدون سے نجابدے سکتا ہے۔ ہمارے قارئین کو یاد ہوگا کہ ہم ے گزشتہ دنون ساہیوال سے تعلق رکھنے والے ا لحاج خورشید احمد چوہان ایدوکیٹ صاجب کی تبدیلی مذہبکی داستان الہ ی خزا نہ کے یارے میں دوقسطیں ی تھ ں۔ ہمارامقصد نتبھی جھوبکے پردون سے سچ کو نزا مد کریاتھا اورا جبھی یہی ہے ۔ ا جا ب رحومم و مغفور منشی محمد صاد ق صاجب کی تبدیلی مذہبکی روداداُنہی کے قلم سے ملا حظہ فرمائیں۔ مو صوف ے سا ل ۶۹۹۱ ء میں کوٹلی ا رادکشمیر میں ا پنے ا س ر و حانی ومعنوی سفر کو قلمبند کیا کہ جو اس وقت معمولی پروف ریدیگ کے بعد من وعن قارئین کی خدمب میں پیش ہے۔ 5 ِ تجدید مذہبوا سبابوعلل ﴿ ایتساب : انسانی ضمیر کے اُنگوشون کے یام جو حق سوچنے اور حق کہنے پر اُاتےتے ہیں ﴾ بقلم : منشیمحمد صاہ ق سابقہ گاو ٴ ں بھیر ہ تحصیل مینڈ ھر، ضلع پونچھ مقبوضہ کشمیر __موجودہ ہ تہ تھلہیرکالونی ﴿ کشمیر کالونی ﴾ کوٹلی آ زآہکشمیر 4591 ء کے موسمِ سرما کا و ا قعہ ہے۔ میں ا پنے سسرا ل میں چند رورہ قیا م کے بعد جب و ا پس ا پنے گھر لویاتو والدِمحترم ے فرما ی ا کہ چند دنہوئے ہیں کہ پیر سیِد گل حید ر ساہ صاجب، جو قیا ِ م یاکستانکےبعد ہجربکر گئے تھے، ابواپس مقبوضہ کشمیر (ہندوستانکے ر ِ یر قبضہ علا قہ ) اپنے وطن پہنچ ا ئے ہیں ۔ دوران ِ ہجرب یاکستانمیں ہمارےخاندان کو انکے اہل وعیال کے ہمراہ کچھ وقت بسر کرے کا مو ملا تھا ۔ یاہم، وہ ہم سے د وسا ل بعد وطن و اپس ا ئے ۔ میں ے والد صاجبسے اُنکے موجودہ قیا م کے یارے میں پوچھا چونکہ میری معلو مابکے مطابق مقبوضہ کشمیر میں انکا داتی مکانفساداب(غدر) میں جل چکا تھا ۔ میرے استفسا رپر والد صاجب ے بتا ی ا کہ ساہ صاجباپنی رمین سے کچھ فاصلے پر ا پنے ا ی ک ہم رلف کے ہان مقیم ہیں ۔ چنانچہ میں ے تھو را ساغلہ مکئی و غیر ہ ا پنے ہمراہ لیا اوران سے ملاقابکی نیت سے ر وا نہ ہو ے لگا ۔ 6 ابھی میں گھر سے نکلنے ہی لگا تھا کہ میر ے یایا رادنزے بھائی ے مجھ سے پوچھا کہ یہ غلہ کیون ساتھ لیا ہے؟ میں ے جوابد ی ا کہ یہ گیا رہو یں شر یف کی بچی ہوئی مکئی ہے، جو میں ساہ صاجبکے لیے لے کر جا رہا ہون۔ ا س پر انہون ے کہا کہ ساہ صاجبتو شیعہ ہیں ، ا و رشیعہ ؒ ؒ غوبِ اعظم کو نہیں مانتے ۔ تم انکے لیے یہ لے کر نہ جاو۔ میں ے کہا کہ مجھے تو نہیں معلومکہ وہ غوب ِ یاک کو مانتے ہیں ی ا نہیں ، لیکن اس وقت وہ محتاجاورامدادکے مستحق ضرور ہیں ۔ ا گر ؒ غوب ِ اعظم ے مجھے خوابمیں ا کر شکو ہ کیا کہ نُوے میر ے عاق کرد ہ شیعہ کو میر ا حصہ کیو ن د ی ا ہے تو میں ا نہیں ر ا ضی کرے کیلئے ا س کے بدلے میں اُن کے کسی ا و رماننے وا لے رحید کو مر ی د غلہ دے د ون گا۔ بہرحال، میں مذکورہ ساہ صاجبکی طرف روانہ ہوا اورتھوراسا غلہ بھی ساتھ لے گیا ۔ کچھ دیر کے بعد میں انکے ہان پہنچ گیا۔ یون اچایک مجھ سے مل کر انہیں بھی بہت خوشی ہوئی۔ کا فی د یر یک ہم یونہی ایک دوسرے کی اوما ل پرسی کرتے رہے۔ دوران ِ گفتگو میر ے دہن میں مسلسل ا پنے یایا رادنزے بھائی صاجب کی و ہی یابکھٹکرہی تھی ۔یالاخر میں ے کوغنیمت جانتے ہوئے مو ہمت کی ا و ر ساہ صاجب سے پوچھ ہی لیا کہ ساہ صاجب! کیا ا ب شیعہ ہیں ؟ انہون ے ِ کمال ا طمینا ن سے جوابد ی ا کہ جی ہان ! ا یسا ہی ہے۔ میں ے جھجکتے ہوئے ہی ہی ھٹ سے کہہ دیاکہ ہمارے ہان تو شیعہ ہویانز ا معیو ب ہے۔ یاتون ہی یاتون میں شیعو ن سے منسوببہت س ا ر ی منفی یاتیں بھی میںاُنہیں بتا بیٹھا ۔ انمیں سے ا ی ک یہ بھی تھی کہ شیعہ لوگ ا پنے متوفی رشتہ 7 د ا رکے پیٹ سے علاظت صاف کرے کے لیے ا ی ک دیدے سے اُس کی صفائی کر تے ہیں ، یعنی پیٹ میں دی دا دال کر نجاسبنکالتے ہیں ، اوراس کے بعد کفن دفن ہویاہے۔ یہ یابچونکہ ن زی مضحکہ خیز اور چونکا دینے والی تھی سو میں ے اسی سے ا غارکیا۔ ساہ صاجبے میر ی کے نزخلاف تو یہ یابسن کر کسی قسم کی خفگی ظ اہرکرے کے بجائے روررور سے ہنسنا شرو ع کر د ی ا ۔ پھر پیارسے بولے کہ اگر ا بشیعہ کو ا ی ک مسلک ی ا فرقہ سمجھتے ہیں تو ظاہرہے کہ کفن ودفن کے احکاماب کے متعلق اس مسلک کی بھی کوئی مذہبی کتاب تو ضرو رہوگی جس پر ا ہلِتشیع عمل کرتے ہون گے۔ میں ے ترکی بہ ترکی جوابدیاکہ جی ، کتابتو ہونی چاہیے ۔ انہون ے مو 8 کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے اپنی الماری سے تجہیز وتکفین کے متعلق ا ی ک چھویاسافقہی رسالہ نکالا ا و رمجھے یہ کہہ کر تھما دیا کہ عزنزم ! اسے پڑھ کر د یکھیں کہ ہمار اطر یقہ کیا ہے ، اہلِ تشیع کی تجہیز وتکفین اسی کے مطابق ہوتی ہے۔ میں ے تقر ً یبا د س سے پندر ہ منٹ میں اس کتابچے کو ترجمے کے سا تھ پڑھا، جس میں ا یسی کسی حرکت کا دکر نہ تھا۔ ساہ صاجبے پوچھا کہ پڑھ لیا ہے؟ میں ے جوابد ی ا کہ جی ہان ، اس میں تو ا یسا کچھ بھی نہیں لکھا۔ ساہ صاجبے میری طرف د یکھا ا و رپھر مسکراتے ہوئے کہنے لگے کہ اس کتابمیں نہیں تو پھر کیا ہواممکن ہے ا بکو کسی اورکتابسے مل جائے۔ ویسے ا بکا اِمامِ دیہہ جو غالباً ا ب کا ا ستادبھی ہے، و ہ بھی ہمار ا ہمسا یہ ہے۔ ا س سے بھی پوچھیں ا و رپتہ کریں کہ کیا و ا قعی ہم شیعہ لوگ ا یسا کرتے ہیں ؟ ا گر وہ کہے کہ ہان تو اسی کی دمہ داری لگا دیں کہ اہلِتشیع کی کسی معتبر کتابسے ا یسا کریا لکھا ہواد کھا د ے۔ جیسا کہ میں پہلے دکر کر چکا ہون کہ ساہ صاجبکا داتی مکانفسادابمیں جل چکا تھا، اورانکی حالیہ ر ہا ئش ہمار ے اِمامِ دیہہ یعنی میر ے مذہبی استادکے مکانکے قر یب ہی تھی ، اس لیے میں ے ساہ صاجبسے اجاربلی ا و ر د ل ہی د ل میں اِمام صاجب سے یہی سوالپوچھنے کی ٹھانلی ۔ جُ سن ِ اتفاق سے اندونون کی رمینیں بھی ملحقہ ں ۔ المختصر کہ عوام الیاس کے ہان عام طورپر مذہبی گفتگو حث و تکراراوربدمرگی پر ختم ہواکرتی ہے لیکن ہماری یہ نسسبنزے ا چھے ا ورخوشگو ار ماومل میں اختتام یدیر ہوئی۔ 9 اہلِ تشیع کے یارے میں اِمام صاجب کا دعوی میںتحقیق کی ایکنئی توایائی اورمصمم ارادہلے کر ساہ صاجبسے رخصتہوا ۔بعد اران میں ے کسی رور اِمام صاجب سے ملاقاب ہوے پر پوچھا کہ کیا واقعی شیعہ لوگ اپنے متوفی کے پیٹ سے نجاسب نکالنے کے لیے ا ی ک دیدے سے ا س کی ا ندر ونی صفائی کرتے ہیں ؟ انہون ے یلا فاصلہ جوابد ی ا کہ یالکل! ضرورا یسا ہی کرتے ہیں ۔ میں ے عرض کیا کہ ا گر ا یسا ہے تو پھر تو یقیناً انکی کسی مذہبی کتابمیں ا یسے احکامابدرجہونگے ۔ اِمام صا جب بولے کہ انہون ے خود اپنی ا نکھون سے اہلِ تشیع کی کتابون میں یہ یابپڑھی ہے۔ ا س پر میر ی رت باورجب ک کی کوئی ا نتہا نہیں رہی چنانچہ میں ے کہا کہ کیا ا بانکی کسی کتابسے مجھے یہ یابی تھ ہو ئی دکھا سکنے ہیں ؟ انہون ے جوابد ی ا کہ کیون نہیں میں چند د نون میں اہلِ تشیع کی کسی کتابسے یہ وما لہ نکال کر دکھا د و ن گا۔ انہون ے مجھ سے وعدہ کیا اور پھر دن، ہفتے اورمہینے گزرگئے۔ یہ معام لہ ا جاورکل، یہ دناور وہ دن کی یدرہویاگیا ، حتیٰ کہ ا ی ک سال بیت گیا ، مگر وہ کوئی ومالہ نہ دکھا سکے۔ ایک طرف تو اِمام صاجب کے جوابکا مجھے بے قراری سے انتظارتھا اور دوسری طرف اہلِ تشیع کے یارے میں میرے دہن میں اوربھی بہت ریادہ سوالابمجھے بے چین کئے ہوئے تھے۔ ا س بے چینی کے یاعب سیِد گل حید ر ساہ صاجب سے میری یابجنباورملاقاتون کا سلسلہ جاری رہا۔ 10 ِ ا ہل تشیع کے یارے میں در ش ہات بکا ارالہ ان د نون مینڈھر کے تحصیل د فتر میں میرا ا یا جایا معمول تھا۔ سیِد گل حید ر س اہ صاجب بھی ا ی ک تعو ی داب کی کتاببغل میں دیائے رورانہ یارارا تے اورواپسی پر ہم دونون ا کٹھے گا ون واپس جاتے۔ و ا پسی کے ا س ر استے میں ، میں اکثرانکے مذہبی نظر ی اب سے متعلق کچھ نہ کچھ ضرو رپوچھ یتا اورساہ صاجبہریارا یسا مدلل ا ورا طمینا ن بخش جوابد یتے کہ میر ے اندرکا شبہ دُورہو جایا۔ ان ہی د نون محکمہ مال ے ہمارے ا ی ک ملحقہ موضع میں بندوبست کا ا غارکیا ۔ یہ مو ضع صرف ارھا ئی میل مغربکی تھا۔ جانتوا یہا ن مالی ، بندوبستی او را مید و ا ر پٹوا ر ی ان کی تربیت ہوتی تھی ۔ میں بھی ا مید و ا ر پٹوا ر ی کی حیثیت سے و ہان پیما ئش ا و رد ر ش امورسیکھنے جایاکریا تھا۔ ا ی ک دنعصر کے وقتوہان کے تحصیلد ار بندوبست کا ا ی ک ہندور ی در سیر کرتے ہوئے ا پہنچا ۔ ا س ے کہا کہ میں و ا پس جا رہا ہون، غالباً تم بھی گھر جاوگے، ا واکٹھے چلتے ہیں ۔ 11 ر ا ستے میں اُس ے کہا کہ میں ا ی ک دہنی پر یشا نی میں متیلا ہون، امید ہےتممیر ی ر ہنمائی کروگے۔ میں ے کہا کہ کیا پر یشا نی ہے؟ وہ بولا کہ کسی عام مسلمان ی ا مولو ی سے اس یارے میں یابکرے سے در لگتا ہے، کہیں الٹا مسئلہ نہ بن جائے۔ تم سے اس لیے پوچھ رہا ہون کہ تم سوجسمجھ کر یابکرتے ہو۔ پھر ا س ے کہا کہ ہم ہندوگائے کا گوسباس لیے حرام سمجھتے ہیں کہ ہم ا س کا دو د ھ پیتے ہیں ، او ر یو ن وہ ہمار ے لیے 'مایا' یعنی مان کے د رجے کی ہوتی ہے۔ا س لیے بطور ِ احترام ہماسے دبح نہیں کرتے۔لیکن مجھے یہ یابسمجھ نہیں ا تی کہ ا بمسلمانلوگ سورکا گوسبکیو ن حرا م سمجھتے ہیں ؟ میں ے کہا کہ قرا نے اسے حرام کہا ہے۔ وہ بولا کہ اتنا تو میں بھی جانتا ہون کہ قرا نمیں یہ یابی تھ ہے، مگر میں ہند وہون۔ قرا نکو ا اننی کتابنہیں مانتا، اس لیے قرا نکی یابمیر ے لیے حجت نہیں ۔ میں ے کہا کہ پھر میں کسی مولو ی سے پوچھ کر ا بکو بتاون گا۔ میں ے بعد اران اِمامِ دیہہ سے پوچھا۔ انہون ے جوابد ی ا کہ یہ جانوربے غیر ب ہے ، اپنی ہی مادہ سے ا جتماعی جفتی کریاہے، اسی لیے اسلام ے اسے نجس اورحرام قرارد ی ا ہے۔ میں ے اسی بنیا د پر اس ہندور ی در کو جوابد ی ا، لیکن و ہ مطمئن نہ ہوا۔ و ہ بولا کہ یہ عمل تو میں ے دوسرے خلال جا نور ون میں بھی د یکھا ہے۔ بلکہ ابتو انسان، جو اشرف المخلوقابہے، وہ بھی ا جتماعی جفتی کو روررحہ کا معمول بنا چکا ہے۔ یہ جوابسن کر مجھے بھی کچھ تشو یش ہوئی ۔ ا ی ک دنمیں ے یہی سوا ل ِ سی د گل حید ر ساہ صاجب سے کیا ۔ انہون ے فرما ی ا کہ قرا ن ِ کر یم میں کئی مقامابپر دکر ہے کہ یافرمانی کرے و ا لی اقوام مسخ ہو 12 کر جانور و ن کی شکل ا ختیا ر کر لیتی ں ۔ ا ہلِ ہنودکی کتابون میں بھی ا س سے نزھ کر نصص ی لاب موجود ہیں کہ انکے اویارون کی مخالفت کرے والے افرادمختلف جانورون کی شکل میں بدلد یے گئے۔ انہون ے بتا ی ا کہ ا ی ک نبی کی بد دعا کے نتیجے میں انکی قوم مسخ ہو کر سوربن گئی ، اسی وجہ سے قرا نے اسے حرام قرارد ی ا ۔ ا گر ا للہ تعالی یہ حکم نہ د یتا تو انسانون کے لیے انسانخور ی کا جو ارید ا ہو جایا۔ جب میں ے یہی یاباس ہندور ی در کو بتائی تو و ہ قدرے مطمئن ہو گیا ۔ روداد ِ مناظرہ دناسی طرج پر لگا کر اُرتے رہے اور یون ہی پوچھنے پچھاے میں دوسال بیت گئے۔ ا ی ک دن ا تفاق سے میرا اپنے ایک ہمسائے اورتعلق واسطے والے ہندوٹھیکیدارکے ہان جایاہوا۔داستانکچھ یون ہے کہ میر ے مکانسے دو، ارھائی فرلایگ دورا ی ک ہندو ٹھیکید ا ر کی الابشدہ رمین تھی ا و ر و ہان اُس ہندو ٹھیکیدا رکے مو یشی خانہ کی لاد ئی (چھت بند ی ) کا کام ہو رہا تھا۔ پہلے اسی ر مین کو میر ے ا ستاد، یعنی ِ اِمام دیہہ ے علہ بٹائی پر کاسبکر رکھا تھا۔ غدر 4511 ء سے قبل یہ ا ر اضی یانچ سال یک اس ہندوالاٹی کی داتی ملکیت تھی ۔ اس کے بعد انہون ے یہ رمین داکٹر فقیر محمد (نیر ی ا ن چوکیا ن والے) کو فروجبکر د ی تھی ، جو بعد اران راولپنڈ ی منتقل ہو گئے۔ اب 4511 ء کے فساداب کے بعد و ہی سابقہ ہندو مالک قانونی طورپر اس رمین کا دویارہ ا لاٹی بن گیا تھا۔ پھر ہمارے خاندانکے اس ہند و ٹھیکید ار سے پراے رحا سم بھی تھے۔ 13 علاقائی رسم ورواجکے مطابق سادی بیاہ یافوتگی کی مانند کسی کے ہان دوران ِ لا د ئی (چھت بند ی ) جایا ہماری مقامی ثقافت کا جصہ تھا۔ یہی وجہ تھی کہ لاد ئی (چھت بند ی ) کے رورمیں، میر ے ا ستاد( ِ اِمام دیہہ ) ا و روہ ہندوٹھیکید ا ر ی ت نون ا کٹھے ہو گئے ۔ اسی ا ثنا میں س یِد گل حید ر ساہ صا جبا ی ک عز ن ز کی بیما ر ُ ن زسی کے بعد ہمارے قر یب سے گزر تے د کھائی دئیے ، غالباً وہ تیماردا ر ی کے بعد ا پنے گھر و ا پس جا رہے تھے۔ ا نہیں د یکھ کر نجاے اِمام صاجب کو کیا ہوا ! ۔ انہون ے ساہ صاجبکو دیکھتے ہی بلند ا وار سے کہا کہ ساہ صاجب ! دراادھر ا ئیں ، ا جا بسے مناظرہ ہو کر رہے گا ۔ ساہ صاجب، جو قدرے تیز ی سے چل رہے تھے، رک گئے ا و ربولے کہ میں مناظرہ نہیں کرو ن گا۔ تم شراربکریاچاہتے ہو۔ میں ے فرصت کوغنیمتجانتےہوئے مداخلبکی اورکہا کہ ساہ صاجب، ا ب تشر یف لائیں ، میر ی موجودگی میں کوئی ا بسے بد اخلاقی نہیں کر سکتا۔ ساہ صا جبمجھ پر ھرووساکر کے و ا پس ا گئے۔ میں ے فریقین سے کہا کہ ا بدونون کی یابج ن ب کے دوران کوئی یالت تو ہویا چاہیے ، یاکہ مناظرہ فیصلہ کن ہو۔ د و نون ے یالتکے طورپر اس ہندوٹھیکید ار کو تسلیم کر لیا ، جو ا ی ک معتدل مراجاورپڑھا لکھا انسانتھا ۔ جب گفتگو کا ا غارہواتو میر ے مولوی ا ستاد صاجب ے سیِد گل حید ر ساہ صاجبکے سوالابکا جواب د ینے کے بجائے شورمچایاشروع کر د ی ا ۔ انکا مقصد یہ تھا کہ وہان موجودلوگ ساہ صاجبپر ملہ کر د یں ۔ مگر عین اُس وقتہندوٹھیکید ا ر بول اٹھا کہ مولو ی صاجب ! اگر ا بکے یاس انکے سوالابکے جوای اب نہیں ہیں تو شورکیو ن مچا رہے ہیں ؟ 14 ٹھیکید ا ر کی یہ یابسبکے لیے حجبتھی کہ مولوی صاجبکے یاس جوابنہیں ہے ۔ اِمام صاجب اپنی جگہ بوکھلا گئے ا و ر میں ے بھی وقتضائع کئے بغیر انتہائی ادبکے ساتھ کہا کہ میرے اُستاد ِ محترم مولو ی صاجب ! ا ی ک سال سے رائد عرصہ ہو چکا ہے کہ ا بے وعدہ کیا تھاکہ شیعہ متو فی کے پیٹ میں گز دالنے کاثبوبشیعہ مذہبی کتابسے د یں گے۔مگر ا با جیک کوئی وم ا لہنہیں دے سکے۔ وہ بولے کہ میں اببھی یلاسمیں ہون لیکن کہیں سے کوئی کتابمل نہیں رہی ۔ میں ے کہا کہ ا گر و ا قعی ا یسی کوئی کتابہوتی ، تو دوسا ل میں کہیں نہ کہیں سے ضرو رمل جاتی ۔ ابمجھ پر بھی یہ یانتہو گیاتھا کہ ا یسی کوئی یاباہلِ تشیع کی کتابون میں موجود نہیں ہے ۔ ابسچائی کو چھپاے اور ل ن ب ولعل سے کام لینے کے بجائے میں ے و ہیں س بکے سامنے اعلانکیا کہ ا جمیں ا ب تمام لوگون کے سامنےشیعہ مذہباختیا ر کرےکا اعلان کریاہون۔ ا س اعلانکا دوسراجصہ یہ تھا کہ اگر ا ب حضرابمیں سے کوئی بھی شخص ا گلے ا ی ک سا ل میں بھی ا س الزام کا کوئی مستند ومالہ ا ہلِ تشیع کی کسی کتابسے پیش کر سکے، تو میں دویارہ اپنے ا یائی مذہب کی طرف لوبا ون گا۔ 15 میر ا یہ اعلانمیر ے قبیلے ا وراہلِ د یہہ کے لیے ا ی ک دھچکہ تھا، لیکن وہان کسی ے ظاہرا ًمخالفت نہ کی ۔ یو ن ہندوٹھیکیدارکے مویشی خاے کی چھت بندی ایک بہانہ بنی اوروہان اہلِ تشیع کے یارے میں لط الزاماباورتوہماب کی کلی کھلنے کی بنیا د پر میں ے مکتبِ ا ہلِ بیت سے اپنا تعلق جورلیا ۔ لوگون میں مشہورکہاوب ہے کہ حضربموسی علیہ السلام ُ ط و رپر ا گ لینے گئے تھے ا و رپیغمبر ی مل گئی۔ اپنے شیعہ ہوے کااعلانکرےکے بعد ا س و ا قعے کے بعد میں سرکار ی ا مورکی انجام د ہی کے لیے ضلعی ہیڈ کوا ر ر، پو نچھ خلا گیا ۔ ا ی ک روروہان ا ی ک مجلسِ عزاکے لیے اعلانسنا، جو میر ے لیے ا ی ک یالکل نیا تجربہ تھا۔ میں ے نہل ی یارکسی مجلسمیں شرکت کی ۔ ابتدا میں مجلس کا ا غارماتم سے ہوا، جو اُس وقتمیر ے لیے ا ی ک ا جنبی اوربظاہربے مقصد عمل محسوس ہوا ۔ د ل کو تسلی د ی کہ ؑ جس مکتبِ اہلِ بیت کے د ر ش کئی مسائل میر ے دل کو بھا گئے ہیں ، سا ی د کچھ عرصہ بعد یہ عملِ ماتم بھی مجھے قایلِ قبول لگنے لگے۔ ا س کے بعد علمائے کرام اورداکر ین ے وعظ 16 فرما ی ا ۔ میں چونکہ مجلس میں نیا ا ورا جنبی تھا، تو کچھ لوگ میر ے قر یب ا کر ی ت ٹھ گئے۔ انہون ے مجھ سے میر ا تعارف پوچھا۔ میں ے بتا ی ا کہ میں مینڈ ھر رکا ر ہائشی ، پٹوا ر ی کے پیشے سے و ابستہ ہون، ا ور فلان فلان وجوہابکی بنا پر، شیعہ مذہباختیا ر کر چکا ہون۔ میں ے انسے کہا کہ میر ے ؑ یاس مکتبِ اہلِ بیت کی کوئی کتابنہیں ہے۔ ا نہون ے مجھے لکھنؤ کے ا ہل ِ تشیع کتب خانون کے پتے د یے ۔ چنانچہ میں ے و ہان سے کتابیں منگو ائیں ، مطالعہ کیا ، ا و ر پھر دو سرو ن کو بھی حقائق سے ا گاہ کریاشروع کر د ی ا ۔ ا للہ تعالی کی توفیق سے میں ا ی ک در ن ع ہ تفکر بن گیا ۔ سوچنے سمجھنے وا لے سادابکی بستیا ن ا ہستہ ا ہستہ ؑ مکتبِ ا ہلِ بیت میں ا ے لگیں ۔ میں ے ا پنے کئی ہم جلیس افرادکو مذہب ِ حق ِ خَیْر ُ ٱلْبَرِیَّة کی جانتراغب کیا ۔ انمیں تحصیلد ا ر ِ سی د عبدا لقیو م ساہ صاجب بھی سامل تھے، جو ترقی یاکر اسسٹنٹ کمشنر پونچھ بن گئے تھے۔ وہ مجھے اپنا معنو ی رہبر سمجھتے اوراکثرکہا کرتے کہ منشی صاجب! مجھے میر ے و ا لد ے بچپن میں درا ی ا تھا کہ یہ شیعہ لوگ ا دمی کھاتے ہیں ۔ اسی طرج مولو ی خاد م حسین ساہ صاجب(گورساہی ) بھی ہمار ی صحبت میں ا ئے، سوچنے ا ورسمجھنے پر مجبورہوئے، اورپھر اپنے علاقے میں ؑ مکتبِ اہلِ بیت کو خوبنھ ی لا ی ا ۔ یہ و ہی خا دم حسین ساہ ہیں جن کا دکر تیو نس کے داکٹر محمد یجا نی انو ی کی مشہورکتاب پھر میں ہدانتیاگیا کے ا ر د وترجمے کے مقدمے میں موجود ہے۔ وقتا گے نزھتا رہا اوریاکستانوہندوستانکے حالاب ۶۹۱۱ ء میں ایک رحتبہ پھر خرابہوئے اوردر شہرارونخاندانون کی مانند ایک رحتبہ مجھے بھی دویارہ ہجربکرنی پڑی۔ہم دویارہ ا رادکشمیر ا ئے اورابکی یار مذہبکے یام پرمیراسوشل یائیکابکیا گیا۔ 17 1965 ء کی ہجر باورسوشل یائیکاب کی حقیقت 4599 ء کے بعد میں ے ہجرب کر کے ا راد کشمیر ا کر سکونت اختیا ر کی ۔ یہا ن 4511 ء ا ور 4599 ء کے مہاجر ین میں ہمارے کئی قر یبی رشتہ د ا ر بھی موجود تھے۔ میں ے 4595 ء میں ملارمبسے ر یٹا نزمنٹ لے لی ۔ انسانجہان رہتا ہے وہان اُس سے اونچ نیچ ہوتی رہتی ہے۔ ہجربکے بعد بہت سارے عزنزورشتے دار جہان بچھڑ گئے وہیں کچھ بہت ریادہ قریب بھی ہو گئے۔ ایسے میں ُ عزنزواقاربکے ساتھ تعلقابکاا یارچڑھاواورگرمی سردی یہ سبانسانی نفسیاباورانجی م راجکا جصہ ہے۔ مگر کچھ افرادے ِ تعلقابکے ا ُ س ا یارچڑھاو او ر میر ے ساتھ داتی رنجشو ن کو مذہبی ریگ د ی ا ۔ اس کا مجھے ہمیشہ افسوس رہے گا چونکہ انہون ے جسے مذہبی اجیلاف کہا وہ ہمارے گھریلو مسائل تھے۔ انہون ے د یہا ب وشہرون میں وفودبھیجے اورنزادر ی کو یہ کہہ کر میرے خلاف مشتعل کیا کہ چونکہ شیعہ کافرہیں ، ا س لیے ہم ے ا پنے حقیقی چچا، منشی صادقسے سوشل یائیکا ب کرد ی ا ہے۔ کوئی بھی فردنہ اس کی خوشی میں شر ی ک ہو او رنہ ا سے اپنی خوشی میں شر ی ک کرے۔ یو ن ہجربکے بعد مجھے انجی تنہائی میں دھکیلنے کی کوش کی گئی جس سے میرے اصابباورحت پر منفی دیاو ٴ پڑا ۔ ایک طرف میں اکیلا تھا اوردوسری طرف انلوگون ے مسلسل مذ ہبکو بطورتھیا ر میرے خلاف ا ستعمال کیا ۔ ر فتہ ر فتہ اس یائیکا ب ے مجھے جسمانی عوارضمیں متیلا کر د ی ا ۔ 18 میںجانتا تھاکہ یہ دیاو ٴ جتنابھی ریادہ ہے اس کے یاوجودکسیبھی طور شعبِ ابیطا ؑ لت سے تو ریادہ نہیں۔ چنانچہ ا یسے وقتمیں مجھےا للہ کی یہ ا ن ت سہار اد یتی ر ہی کہ وَجَعَلْنَا ب َعْضَك َ َ َْْب ُو َ َ َ َ ً َ ِب ْ ْن ٍ ْ ِب َ َع ْ م ( یعنی کہ ہم ے تم میں سے بعض کو بعض کے لیے ا رمائش بنا ی ا، کیا تم صبر کروگے؟) – سور ہ الفرقان، ا ن ت 02 ۔ سو میرے رب کر یم ے ا پنے اس ابد ی قانونکے تحت میر ی بھی ا رمائش کی ۔ مجھے اس پر فخر ہے اورمیں خداکا شکر اداکریاہون کہ میں اس ا رمائش میں یانتقدم رہا۔ یہ تھا میر ے تجد ی ِ د مذہباوررندگی کے نشیب وفرارکا مختصر مگر سچا، داتی ا و ر ایسا یاقایلِ انکارخاکہ کہ جس کے یارے میں اکثرلوگ مجھ سے ً وقتاً فوقتا د ر ی افت کرتے رہتے ہیں ۔ منشی محمد صادق صاجب یکم فروری 2 018 ء ن زورجمعرابکو اس دار ِ فانی سے کوجفرما گئے۔ التماسِ فاتحہ 19 حرف ِ آحر! مذکورہ بالا تحریر کا مطالعہ کرنے والے قارئین کی خدمت میں ہم یہ عرض کربا خا ہتے ہیں کہ زبدگ ی محض سانس کی آمد و رفت کا بام نہی ں بلکہ یہ ابک باطنی جہاد ہے، جہاد ِ قکر، جہاد ِ صدافت، اور جہ ِ اد ئبیین حق ۔ یہ تحریر ابک ا نسے مسافر ِ حق کا اعترافی بیابیہ ہے کہ جس نے مو روثی عقیدے کے نہاڑ ، تعصب کی دیوار، اور موروثی مذہب کے یردوں کو خاک کر کے، شعور و آگہی کی روشنی میں ح ق و سچ کو نہچابا۔ وہ حق و سچ جسے صدیوں سے چھیابا خابا رہا، اسے اس مسافر ِ تحق یق نے یہ فقط بلاش کیا ب لکہ اسے یرکھا اور ف یول بھی کیا ۔ اس نے حق و سچ کے ا عتراف کیلتے مشکلات کے ز ہر کا خام بھی بیا ۔ یہ تحریر ہمارے قارئین کو ہمیشہ یہ باد دلاثی رہے گی کہ مذہب اگر تحق یق سے محروم ہو خ انے یو تعصب بن خابا ہے، اور ایمان اگر عقل سے خالی ہو یو ابدھی تقلید کہلابا ہے۔ Nazar Haffi 31/7/25 چمعرات نسکریہ : بیم وانس آف ئیشن / ا یلائن کاپی کیلئے کلک کریں